kahani Ek Gharany ki


دوستوں میرا نام فرہاد ہے
.میری امر اس وقت ٢٦ سال ہے .میں جو وقیحہ آپ کو بتانے جا رہا ہوں وو ایک بلکل سچی کہانی ہے جو مرے اپنے گھر سے شروع ہوے تھی
یہ اس وقت کی بات ہے جب ہم اسلام آباد میں رہا کرتے تھے
.ہمارے گھر میں ابّا ،ممی میری بہن ،سارا، میں اور چوٹی بہن مہا رہتے ہیں..سارا
١٥ سال کی ،میں ١٤ سال کا
اور مہا ١٢ سال کی تھی
مرے ابّا اور ممی کی عمروں میں کافی فرق تھا
. ابّا ٦٠ سال کے تھے اور ممی ٣٤ سال کی تھیں. ہمارا گھر کافی خوشال تھا .گھر میں نوکر بھی تھا جو سب کام کاج کرتا تھا وو ٢٠ سال تھا اور اس کا نام نظیر خان تھا.ابّا کا کاروبار تھا اور ان کا دوسرے ملکوں میں انا جانا لگا رہتا تھا، ممی بھی نوکری کرتی تھیں. وو ایک .اشتہاری فرم میں ایک اچھی پوسٹ پرر تھیں.ان کا نام نیلوفر تھا اور ابّا کا نام کاشف تھا.
Asharf

اب میں اصل کہانی کی طرف اتا.ابّا کو کاروبار کے لیا افغانستان جانا پرا.وو اور ہم سب کافی پرشان تھے.کیونکے اس ملک کے حالات ٹھیکہ نہیں تھے.لکن ابّا کو ضرور جانا تھا.وو بھی فکرمند تھے. بہرحال وو چللے گیے.ہم سب اپنے اپنے کامو میں مشغول ہو گیے. میں اسکول میں تھا. اور اپنی کلاس سے لڑکوں سے دوستی بھی بوہت تھی.عادل اور اسکی ایک بہن جو مرے پڑوس میں رہتے تھے ان سے میری خوب دوستی تھی.ان کے والد کا نام شمروز خان تھا.اور عادل کی ممی کا انتقال ہو چکا تھا.
عادل کی بہن نوشین کی میری بہن مہا اور سارہ سے بری دوستی تھی.اور وو دونو بہن بھی شام کو ہمارے گھر میں رہتے تھے جب تک ان کے والد گھر نہیں آ جاتے تھے.وقت اچھا کٹ رہا تھا کے ابّا کو کاروبار میں گھٹا ہو گیا .اور ہمیں ابّا نے پیسے بھجنے بند کردے. ممی بوہت پرشان ہو گیں. وو تو بھلا کرے شمروز صاحب کا جو انہوں نے ہماری ممی کو چار لکھ روپے دے دیا.اب خان صاحب ہر روز شام کو ہمارے گھر آ جاتے اور کھانا کھا کر ممی کے روم میں باتیں کرتے تھے.ہم لوگ سو جاتے تھے.خاص طور پر ہفتے کے دیں تو وو پوری رات ممی کے کمرے میں ہوتے تھے.میری بدی بہن سارا اور عادل کی بوہت دوستی تھی.

ایک رات کی بات ہے میری نیند میں آنکہ گیے اور میں پانی پینے کے لیا بستر سے اٹھا تو دیکھا کے ممی، خان صاحب ،سارا اور عادل تاش کھل رہے تھے. میں کمرے میں جانے ہے لگا تھا کے ممی کی آواز آیے؛
ممی ؛؛؛؛ اب مجھے نیند انے لگی ہے. اب کھل ختم کرو.
خان صاحب بولے؛؛؛؛ یار اب میں بھی تھک گیا ہوں
سارا باجی بولیں؛؛؛؛ ممی اب تو کھل میں مزہ انا شرو ہوا تھا.
خان صاحب بولے؛؛؛ سارہ تم اور عادل ہمارے گھر جا کر کھل لولکن زیادہ وقت نہ کھیلنا اور جلدی واپس آ جانا جب تک میں تمہاری ممی سے کاروبار کی باتیں کرتا ہوں.سارا اور عادل دونوں خان صاحب کے چلے گیے. پھر خان صاحب اور امی دونوں باتیں کرنے لگے. ممی نے کلے رنگ کا سونے والا
لباس پہنا ہوا تھا.وو بوہت پر کشش تھا اور خان صاحب کی نظریں ممی کے جسم پر مذکور تھیں
ممی بولیں؛؛؛ بچے چلے گیے ہیں ، ہم برآمدے میں چلل کر بیٹھتے ہیں ممی بھر آ کر زینے پر بیٹھ گیئں اور خان صاحب ان کے ساتھ بیٹھ گیے
خان بولے؛؛؛؛نیلو تم کو کاشف کی یاد نہیں اتی
ممی؛؛؛ یاد تو اتی ہے پر دل کو دبانا پڑتا ہے
خان؛؛ نیلو دل کو مت دبایا کرو اس کی بات سن لیا کرو.
ممی؛؛؛ خان صاحب وو کیسےخان؛؛؛ نیلو تم مجھ کو صاحب مت کہا کرو ، صرف. شمروز کہا کرو.ممی کہا میں آج سے آپ کو شمروز کہا کروں گی پھر خان صاحب نے ممی کو کہا مجھ کو پتا ہے کے تم آج کل پریشن ہو. -- ممی بولیں
آپ کو کیسے پتا چلّ کے میں پریشان ہوں
کل تم مارکیٹ خان صاحب بولے
ممی نے کہا ہاں
خان صاحب بولے تم نے ادھر سے قرض
مانگاہ تھا اور اس نے تم کو کہا تھا کے پہلے کام پھر دام اور تم نے حامی بھر لے.
ممی بولیں ؛؛شمروز تم کو تو پتا ہے کے کاشف کافی دنوں سے ملک میں نہیں ہیں اور مجھ کو گھر چلانا ہے.بس میں نے اس دوکاندار سے قرض لینا چاہا تھا لکن اس نے مرے سے میری عزت مانگی
اب تم ہی بتاو شمروز میں کیا کرتی
شمروز؛؛تم کو کتنا رقم چھیا ہے
ممی بولیں؛؛ کوئی ٢٥٠٠٠
شمروز بولا ؛؛ اگر میں تم کو یہ رقم دے دوں
لکن ایک بات تم کو کرنی پڑے گی
ممی بولیں.وو کیا
شمروز بولا.تم مرے گھر میں چل کر رہنا
اور اپنا مکان رینٹ پر دے دو.اس سے تم کو اور فائدہ ہو گا.مرے گھر کی نچلی منزل تم لے لو
ممی نے کچھ دیرسوچا اور پھر کہا؛شمروز کیا تم مرے لیا یہ سب کچھ کر لو گے
شمروز ؛؛ نیلو میں تمھارے لئے جان بھی دے سکتا ہوں آزما لو...
ممی نے شمروز سے کہا ؛؛؛ لکین شادی شدہ ہوں
شمروز نے ممی کو کہا کے کھڑے ہو جائیں.ممی کھڑی ہوئیں تو شمروز نے ممی کو سینے سے لگا لیا.ور کہا آج سے تم میری ہو اور تمھارے بچے مرے بچے ہیں. ہم سماج کے سامنے ایک پڑوسی
اور گھر میں شوہراور بیوی ہوں گے.ممی نے یا سن کر کہا کے شمروز کوئی خرابی نہ ہو جیا فرہاد اور سارا سمجھدار ہیں اور سارا تو جوان ہے.
شمروز ؛؛ دیکھا جیے گا تم فکر نہ کروتم سارا کو سمبھالو میں فرہاد کو.
پھر شمروز نے ممی کو پیار کیا اور ممی نے بھی شمروز کا بھرپورساتھ دیا
اتنے میں دروازہ کھلنے کی آواز اے اور ممی اور شمروز الگ الگ ہو گیا
سارا اور عادل واپس گھر آ گیے تھے
سارا نے ممی کو کہا ؛؛ مجھے اب نیند آ رہی ہے
اور اس نے خان صاحب اور عادل کو شب بخیر
کہا اور اپنے روم میں چلی گیئے
خان صاحب اور عادل اپنے گھر اور ممی اپنے روم میں آ گیئں
میں اپنے کمرے میں آ کر سوچنے لگا کے یا سب کیا ہو رہا ہے.ممی ابّو کے جانے کے بعد اتنا بدل
کیوں گیئں
ایک ایک کر کے مرےذھن کٹ دریچے کلتے چلے گیا.خان کی ابّا سے دوستی
ان کا ابّا کو سرمایا دینا پھر ان کو افغانستان جانے کی ترغیب دینا اور ان کا ممی سے میل جول بھرھانا

یہ سوچتے سوچتے میری آنکہ لگ گیے
صوبہ جب میری انھک کھلی تو دن
چڑھ چکا تھا میں نے ممی کو آواز دی تو کوئی جواب نہ آیا میں اٹھ کر کمرے سے بھر آیا تو گھر میں کوئی نہیں تھا.میں نے سوچا کے ممی خان صاحب کے گھر نہ ہوں اور یا سوچ کر میں خان صاحب کے گھر گیا تو وہاں عادل ملا.میں نے اس سے پوچھا کے میری ممی تو نہیں ییں یہاں پر.اس نے جواب دیا کے وو مرے ابّا کے ساتھ ان کے روم میں ہیں اور کوئی کاروبار کی باتیں کر رہی ہیں؛سارا اور مہا مرے روم میں فلم دیکھ رہی ہیں.
میں نے کہا؛؛؛ عادل ممی کو بولو دو میں نے ناشتہ کرنا ہے.میری آواز سن کر سارا باجی بھر آگیئں.ان کا لباس دیکھ کر میں حیران رہ گیا. انھوں نے چست کامیز اورچست پاجامہ پہنا ہوا تھا.اس لباس میں ان کے جسم کے ابھر صاف نومایا تھے
میری ممی اور سارا باجی کا جسم ایک جیسا تھا.دونوں کے بریسٹ کافی نکلے ہووے تھے
اور دونوں کی گانڈ بھی بھر نکلے ہووے تھی
.
خیر میں نے خان صاحب کے ہاں ناشتہ
کیا اور جب سب فلم دیکھ رہے تھے تو عادل نے مجھے بھر انے کو کہا
اس نے کہا فرہاد کیا تم نے ممی سے ملنا ہے
میں کہا ہاں عادل
وو بولا تم اپر خان صاحب کے روم میں جاؤ.میں اپر چلا گیا. خان صاحب اور ممی باتیں کر رہے تھے اور دونوں ایک ہی پلنگ پر تھے
میری آنکھیں اس وقت کھلی کی کھلی رہ گائیںجب خان صاحب نے ممی کے مممے پکڑ
کر ممی کو پیار کرنا شروکیا اور ممی نے ان کو روکا نہیںاور خود بھی خان صاحب کا ساتھ مستی
کرنے لگیں.خان نے اپنا ہاتھ ممی کی شلوار میں ڈال دیا ممی نے ممی شلوار کھول دی اور خان صاحب کے لند کو پکڑ لیا.ممی بوہت پیاسی لگ
رہی تھیں ان کو کافی عرصے بعد لند کا دیدار
ہو رہا تھا اور اسی وجہ سے انھوں نے خان سے
کہا کے خان جانی تم بھی اپنے کپڑے اتر دو پھر خان بھی ننگا ہو گیا اور ممی بھی اور دونوں ایک دوسرے میں گم ہو گیا.خان کا لند بوہت لمبا اور موٹا تھا خان اب ممی کی چوت میں فنگر
کر رہا تھا اور ممی کی حالت غیر ہو رہی تھی وو مچھلی کی ترہان تڑپ رہی تھی اور مو سے آوازیں نکل رہی تھیں؛؛
میں نے پہلی دفع کسی عورت کو چڑتے ہووے دیکھا تھا.اب خان صاحب نے ممی کو کہا کے مرے لند کو چایسواور ممی نے خان کا لند اپنے مو میں لے لیا. خان صاحب کا لند کھڑا ہو کر کوئی ١٢ انچ کا ہو گیا.ایک تو میں پہلے ہی ممی کی اس حرکت سے افسوردھا تھا اور پھر ان کی بے حیائی
دیکھ کر اور شرمندہ ہو گیا.
اب خان صاحب نے ممی کو پلنگ پر سیھدھا لیتا دیا اور ممی کی پھددی پر تھوک لگے اور اپنا لند ممی کی پھددی میں ڈال دیا ،ممی کی درد سے کررہ گیئں
لکن خان صاحب نے امی کی ٹانگیں اپنے کندھا پر رکھ لیں اور امی کو زور زور سے اندر بھر کرنے لگے. پہلے امی درد سے اور مزے سے شور
مچا رہیں تھیں. اور خان صاحب بھی کبھی امی کے مممے دبا رہے تھے کبھی امی کوپیار کرتے تھے
امی بولیں خان جی میں نکلنے لگی ہوں
خان نے کہا
؛ نیلو جان میری بیوی میں بھی بلکل کریب ہوں
اتنے میں امی اپر اور نیچے زور زور سے ہلنے لگیں اور خان کو اپنے بازوں میں بھر لیا اور ہاہاہاہاہا
کرنے لگیں اور اس کے ساتھ خان صاحب نے بھی امی کی چھوٹ میں اپنی منی چھوڑ دی. امی نے خان کو سینے سے لپٹھالیا اور پیار کیا.
میں نے شرم سے اپنی گردن
جھکا لے اور اپنی امی کی چدواۓ دیکھ کر اپنے گھر آگیا
میں نے کریب چالیس منٹس اپنی امی کی چدوای
کا نظارہ کیا اور میرا لند بھی کھڑا ہوگیا
تھا. پھر میں نے پہلی بار مٹہ مری.. امی شام کو اپنے گھر واپس ییں.. ان کے ساتھ سارا اور مہا بھی تھیں. میں غور سے امی کو دیکھا تو وو بوہت خوش تھیں. انھوں نے مجھے پانچ سو روپیے دیا اور کہا جا کر آج ہی خرچ
کر دینا. میں نے پیسے خوشی خوشی رکھ لیے
پھر امی نے سارا باجی اور مہا کو بھی پیسے دیا
اس دیں کے بعد خان صاحب ہم سب کو اپنی گاڑی میں اسکول چھوڑنے جایا کرتے تھے اور جب
ہم اسکول سے واپس آیا کرتے تو .خان صاحب ہمارے گھر میں ہوتے تھے امی کے ساتھ یا تو بد روم میں یا چھتہ پر.....
ابا کا کوئی پتا نہیں تھا خان صاحب کا کہنا تھا کے وو طالبان کی جیل میں ہیں اور ان کو انے میں دس سال لگےگین. خان صاحب کی باتوں سے صاف ظاہر ہوتا تھا کے ان کو ابا کے بارے میں سب کچھ پتا ہے اور وو جان بھوج کر ہم سے چھپا رہے ہیں اور اس کے باراکس امی کو بوہت اطمینان تھا اور امی نے کبھی خان صاحب سے کچھ معلوم کرنے کی کوشش بھی کی کے ان کے شوہر کہاں ہیں
خان صاحب اور امی کے ناجائز تعلقات کو ایک ہفتہ ہو گیا تھا.سارا باجی کچھ کچھ معاملہ سمجھ گیئں تھیں. اور ان کو جب امی نے کسی بات پر روکا نہیں تو وو زیادہ موڈرن ہو گیئں
اسکول میں لڑکے اور لڑکیاں ساتھ پرتھے تھے اور ان دوستی تو سب سے تھی. خاص دوستی عادل سے تھی. امی نے کبھی اس پر اعتراض
نہیں کیا بلکے ہمیشہ باجی کو شے دی اور ان کو ساتھ رہنے کے موقےدیتے رہیں.
ایک دیں خان صاحب نے پروگرامے بنایا فارم پر جانے کا. امی ،سارا،میں،مہا،عادل
خان صاحب اور نوشین سب بارے خوش ہووے
ہفتہ اور اتوار کی رات وہان گزارنی تھی فارم ہاؤس
پونچھ کر ہم نے سامان کمروں مے ڈالا ،، شام ہو گیے تھی اور رات کا اندھیرا بھی ہو چلا تھا.
سیمنگ پول بھی تھا . ہم سب پول میں ٹانگیں ڈال بیٹھ گیے. اتنے میں ایک آدمی آیا جو باورچی تھا اس نے کھہنے کے لیا کہا. ہم سب نے کھانا کھایا
اور اپنے روم میں چلے گیے.دو کمرے تھے ایک اپر اور ایک نیچے
ہم سب لوگ یعنی مہا ، عادل،میں،سارا اور نوشین
اپر والے روم میں امی اور خان صاحب نیچے والے روم میں.
عادل بولا مجھے نیند نہیں آ رہی ہے میں ابھی اتا ہوں. وو فارم ہاؤس کے اس حصّے چلا گیا جہاں پھلوں کا باغ تھا.
سارا باجی کے ساتھ نوشین اس ساتھ مہا اور مہا کے ساتھ میں لیتا تھا اور سارا باجی کے ساتھ عادل کا بستر لگا ہوا تھا.سارا باجی موبائل پر کسی سے بات کر رہیں تھیں. جب کافی دیرتک عادل نہیں آیا تو وو بولیں . فرہاد تم عادل کو دیکھ کر او.
میں بولا اچھا باجی. پھر میں بھر گیا تو عادل نظر آیا ،اس نے مجھے دیکھ لیا. وو باغ کے مالی کے ساتھ چارپائی پر لیتا ہوا تھا
مجھے پتا تھا کے وو گنڈو ہے لَکِن اس وقت اور ایک کم کرنے والے سے گنڈہ مروانا مجھے اچھا نہیں لگا. اس نے مجھے اپنے پاس انے کو کہا
پھر بولا کے فرہاد کسی کو بتانا نہیں پلیس
. اس آدمی کا لندد عادل کی گنڈہ میں تھا اور وو زور دار دکھے لگا رہا تھا.تھوڑی دیر میں اس آدمی کی منی نکل گئے.میں دیکھا کے عادل کا لنند
بھی اپنے ابا کے برابر ہی تھا.اس آدمی نے عادل کا لنڈ اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا اور اس کو ہلا رہا تھا اور وو عادل کی مٹہ مار رہا تھا ، عادل بھی تھوڑی دیر میں فارغ ہو گیا.اور میرے پاس آیا اور اس آدمی سے میرا تعارف کرایا .اس آدمی کا نام مست خان تھا اور وو دو سال سے فارم ہاؤس پر رہتا تھا.مست خان بوہت ایک طاقتور آدمی تھا ،اس کا جسم بھی خوبصورت تھا. میں اس سے بوہت متاسصرہوا تھا . میں نے اس ہاتھ ملایا اور پھر میں اور عادل واپس روم میں آگیا
وہاں سارا باجی ہمارا انتظار کر رہی تھیں.ہمے
دیکھ کر وو بولیں ،، مجھے نیند آ رہی ہے میں تو سونے لگی ہوں. مجھے نیندہ نہیں آ رہی تھی تو میں بھر نکل گیا اور صحن میں آ کر پول کے پاس
بیٹھ گیا.ممی کے روم کی بتی جل رہی تھی اور ممی کے ہسنے کی آواز آ رہی تھی.میں ان کے روم کی کھڑکی کے پاس گیا جو کھلی ہوے تھی. وہاں پر دیکھا کے ممی اور شمروز دونوں ننگے ہیں اور باتیں کر رہے ہیں.امی خان صاحب کے سینے پر سر رکھ کر ان کو کس کر رہی ہیں اور خان صاحب امی کی موتی موتی گندھ پر اپنا ہاتھ پیررہے ہیں اور ساتھ ساتھ امی کے مممو کو دبا رہے ہیں.
امی بولیں شمروز اب مجھ سے صابر نہیں ہوتا میری پیاس بھوجھ دو.شمروز بولا کے نیلو میرا بھی لنڈ کھڑا ہے ،تیری پھددی میں جانے کے لیا بیقرار ہے. یا کھا کر شمروز نے اپنا لنڈ امی کی پھددی میں ایک دم گوسا دیا اور وو پچ سے اندر چلا گیا ، پھر زور زور سے امی کی چوٹ مرنے لگا .
یا سب دیکھ کر میرا لنڈ بھی سر اٹھانے لگا اور میں نے اپنے لنڈ کو جھٹکے مرنے لگا.پھر میں نے اپنی شلوار اتر دی اور لنڈ پر تھوک لگائی
اور ایک ہاتھ سے مٹہ مرنے لگا اور دوسرا ہاتھ اپنی گند کے سوراخ پر لے گیا اور اپنی انگلی اندر کرنے لگا.
ایک طرف میری امی چھڈ رہی تھیں اور کمرے کے بھر میں مٹہ مار رہا تھا
امی کی آوازیں مجھے اور پاگل کر دے رہی تھیں
ایک دم امی زور سے چالیں شمروز میں نکلنے لگی ہوں
اور ساتھ ہی اپنی رانوں کو خان کی کمر کے گرد
پھنسا لیا اور ان کی پھددی سے منی کا فووارہ نکل گیا ، اور ساتھ خان کے لنڈ نے بھی امی کی پھددی میں اپنی منی چھوڑ دی
امی بولیں شمروز اب نہیں کرنا میں چار دفع نہیں نکل سکتی(اس کا مطلب امی اور خان پہلے بھی چداۓ کر رہے تھے)
میں ابھی منزل سے دور تھا لَکِن مٹہ مار رہا تھا کے امی نے کہا ؛ میں ذرا بچوں کو دیکھ کر اتی ہوں.
میں نے اپنی شلوار اٹھاۓ اور اپنی روم میں بھاگ کر آگیا. اور جلدی سے چدّر اپنے اپر ڈال لے.امی روم میں ییں اور سب کو سوتا دیکھ کر واپس چلیں گیئں
میری آنکھوں سے نیند اوڑھ گی تھی. میرا کھڑا لنڈ منی اگلنے کے لئے بچیں تھا. میں نے روم میں دیکھا تو سب سو رہے تھے .مرے ساتھ نوشین سو رہی تھی . وو کروٹ لے کر مہا کی طرف مو کر کر کے سعے ہوے تھی. اس کی موتی گندھ سے کامیزاٹھی تھی. میں نے اپنا لنڈ اس کی شلوار کے اپر سے اس کی گندھ پر لگا دیا اور ہلکے ہلکے دھکھے لگانے لگا . میں پہلے ہی بوہت گرم تھا اس لیا تھوڑی دیر میں میری منی نکل گی، میری سری منی نوشین کی شلوار پر لگ گی تھی. خیر میں نے اٹھ کر پیشاب کیا اور آ کر سو گیا.
جب آنکہ کھلی تو دن نکل آیا تھا.میں اٹھ کر ناشتہ کرنے آیا تو وہاں امی .اور خان صاحب سارا باجی سے باتیں کر رہے تھے.امی سارا باجی کو کہ رہی تھیں کے آج رات ہم سب کمپنگ کریں گے
سارا باجی خوش ہو کر بولیں کے میں تایار ہوں کب جانا ہے. خان صاحب بولے
سارا بس شام سے پہلے
( خان صاحب نے کبھی سارا باجی کو بیٹی نہیں کہا تھا)
ہم سب جلدی جلدی تیاری کرنے لگے، اور شام ہونے سے پہلے ہم سب دریا ساون کے کنارے پوھنچ گیا.
امی ،سارا باجی اور نوشین نے جینس اور وی گالے کی شرٹس پہنی ہوئی تھیں اور خان صاحب ،میں،اور عادل نے شورٹس/نیکر پہنی تھیں
اور مہا نے فراک پہنا ہوا تھا
ہمارے ساتھ ایک گن میں اور مست خان بھی تھا
مست خان اور نواز(گن میں) نے خیمہ لگا دیا . اس پاس کی جگا کو صاف کیا اور مچھر دانی چاروں طرف لگا دی.
میں ،عادل،سارا باجی نوشین اور مہا دریا کی طرف چلے گیے. وہاں بری بری چتانے تھیں اور پانی کا زور بھی بوہت تھا. ہمارے پیچھے پیچھے
مست خان بھی آگیا.سارا باجی نے کہا کے کوئی کھل کھیلتے ہیں. نوشین نے کہا چھپن چھپائی کھیلتے ہیں. ہم سب نے کہا یس یس
میں نے کہا نہیں کوئی اور کھل کھیلو
سارا باجی اور عادل نے ایک ساتھ کہا نہیں یہی کھلیں گے
پھر وو سب چپ گیے اور میں چور بن گیا. دریا کے ساتھ ساتھ بارے بارے پتھر
تھے سب وہاں چھپ گیے. میں پہلے نوشین کو پکڑ لیا .. پھر ہم سب باری باری چور بنتے گیے
. کھل میں نے یا نوٹ کیا کے ہر باری کے خاتمے پر باجی اور عادل دیر سے اتے تھے اور مستی خان ہمی وہاں جانے نہیں درہ تھا جہاں باجی اور عادل چھپتے تھےہم کوئی ایک گھنٹہ
کھیلے اور اس ٹائم میں وو دونوں ایک دفع بھی چور نہیں بنے.اور آخری دفع جب باجی اور عادل واپس یے تو باجی کی ہونٹوں اور گلوں پر نشان تھے. اور عادل کی شرط پر لال لال نشان تھے.
کھل ختم ہوا تو ہم سب نے کھانا کھایا اور کچھ دیر تک باتیں کیں. پھر اپنے خیمہ میں آ گیے
ایک خیمہ میں خان صاحب اور ممی ، دوسرے میں باجی، نوشین اور مہا اور تیسرے میں عادل ، میں اور مستی خان.گن میں کار میں سونے چلّہ گیا. رات بوہت گرم تھی ہم تینوں نے صرف
پاجامہ پہنا تھا اور کامیز اتر دی تھی
خیمہ کے گیٹ کے پاس عادل ، عادل کے ساتھ میں اور مرے پیچھے مست خان لیتا تھا.بھر چاندنی رات کی روشنی ، دریا کی لہروں کا شور
ایک عجیب رومانوی منظر تھا.
میں اور عادل بات کر رہے تھے کے مجھے اپنی ٹانگوں پر کسی کا ہاتھ لگا. جب میں نے کچھ نہیں کہا تو مست خان کا ہاتھ مرے لنڈ کو سہلانے لگا.
میں اس کا ہاتھ اپنے لنڈ سے ہٹا دیا لَکِن تھوڑی دیر کے بعد اس کا ہاتھ پھر مرے لنڈ کو سہلانے لگا.اور ساتھ ہی اپنے لنڈ کو میری گنند سے لگا دیا. میں اس سے بجھنے کے لیا عادل کی طرف ہو گیا لَکِن وو باز نہ آیا. میں گھبرا گیا تھا اس کی اس حرکت سے مگر ہمّت نو ہوے کے اس کو منہ
کر دیتا.جب مستی خان نے کوئی روکاوٹ نہیں دیکھی تو وو اور بھی شیر ہو گیا.اس نے مرے لنڈ کو بھر نکل کر دبانے لگا .. مجھے اب مزہ انے لگا ،اور میرا لنڈ کھڑا ہو گیا تھا اور جا کر عادل کی گاند سے ٹکرا رہا تھا،میری نیکر مستی خان نے اتر دی اور اپنے لنڈ کو میری گند کے سوراخ پر مل نے لگا. اتنے میں عادل اٹھا اور مجھے کہا فرہاد تم مزے کرو میں بھر جاتا ہوں اور جب تم گندد مروا لو تو مجھے بولا لینا. پھر وو پھر وو بھر چلے گیا
اب میں اور مستی خان تھے ، مستی خان نے مجھے ننگا کیا اور کہا ،، پہلے گاند مارووی ہے کیا
میں نے کہا ؛؛ نہیں آج پہلے بار ہے
تو اس نے میری گاند کے سوراخ پی تیل لگا دیا اور اپنے لنڈ کو آہستہ آہستہ میری گاند میں ڈالنا چاہا ، میری تو چیخ نکل گیے. میں نے اس کی گرفت سے نکل نے کی کوشش کی لَکِن لا حاصل ،اس نے مرے مو کو اپنے ہاتھوں سے بند کیا ہوا تھا . پھر میری گاند میں اس کا لنڈ ایک جھٹکے کے ساتھ گھس گیا. میری آنکھیں بہار
نکل آیین. میری گاند میں مست خان کے لنڈ کی وجہ سے بوہت درد ہو رہا تھا. مگر وو ظالم پوری طاقت سے اپنا لنڈ میری گاند میں اندر کر رہا تھا
کچھ دیر کے بعد مجھے بھی مزہ انے لگا، اور مست خان نے آرام آرام سے میری گاند ماری..
اپنی منی میری گاند میں اگل دی...
میں جلدی سے باتھ روم گیا اور اپنی گاند کو دوھیا
باتھ روم کو ایک چدّر سے بنایا ہوا تھا.
میں واپس آیا تو مست خان سو چکا تھا. عادل ابھی تک واپس نہیں آیا تھا. میں پھر باہر
گیا اور سارا باجی کے خیمہ میں جھانکا تو سارا باجی بھی غائب تھیں.میں ان کی تلاش میں دریا تک گیا. وہاں وو دونوں بیٹھے ہووے سموکنگ کر رہے تھے سارا باجی عادل کی گود میں بیٹھی
تھیں اور عادل کے بازو باجی کے گرد تھے. میں ان سے نظریں بچا کر ان کے کریب آگیا.
اب میں ان کو دیکھ سکتا تھا اور ان کی باتیں بھی صاف صاف سن سکتا تھا.
عادل .؛؛ سارا تم کو مزہ آ رہا ہے یہاں
باجی؛؛ ہاں بوہت اچھا لگ رہا ہے ، ہم کبھی اس ترحان باہر نہیں گیے. یا تو خان چا چا کا کمال ہے
عادل (ہنستے ہووے بولا) ہاں اس سے بھی زیادہ تمہاری امی کا کمال ہے
باجی ؛؛ وو کیسے
عادل؛؛ تم کو پتا نہیں کیا یا تم جان بوجھ کر بن رہی ہو
باجی'؛؛ عادل مجھے کچھ کچھ تو اندازہ ہے لَکِن کوئی بات یقین سے کہ نہیں سکتی.. امی کا رویہ مرے ساتھ بوہت نرم ہے. وو مجھے اپنا دوست مانتی ہیں. اور مجھے ہر قسم کی آزادی بھی ہے. وو خود مجھے لڑکوں سے دوستی کرنے کو کہتی ہیں.
عادل ؛؛ ہاں مجھے بھی کہا تھا تم سے دوستی کرنے کو. لَکِن تمہاری امی اور میرے ابا کے جنسی تعلقات ہیں
باجی ؛؛ ہاں مجھے اندازہ ہے
پھر عادل نے باجی کو وو سب بتایا جو مجھے پہلے ہی معلوم تھا.
عادل کی باتیں سن کر سارا باجی بھی گرم ہو گیئں
عادل نے سارا باجی کی رانوں پر اپنا ہاتھ پہرہ
تو باجی نے اس کو روکا نہیں.سارا باجی نے پاجامہ او ربغیر آستینوں کی باریک کپڑے کی قمیض پہنی ہوے تھی. عادل نے سارا باجی کی قمیض میں اپنا ہاتھ ڈال کر ان کے بریسٹ(معو)
کو دبایا تو باجی سی سی کرنے لگیں. تھوڑی دیر کے بعد سارا باجی نے عادل کو کہا کے اپنے خیمہ میں چلتے ہیں. عادل بولا کے نہیں وہاں ابا ہوں گے.پھر عادل نے سارا باجی کو پکڑ کر زمین پر لیتا دیا اور باجی کے ہونٹ چوسنے لگا ، اور ساتھ ساتھ باجی نے اپنے کپڑے خود اتر دیے. عادل بھی ننگا ہو گیا اور باجی کو اپنے اپر لیتا لیا
اب باجی عادل کو پیار کر رہیں تھیں اور عادل سارا باجی کی گاند کو دبا رہا تھا. اور اس کا لنڈ باجی کی چھوٹ اور گاند کے درمیان والی جگہ پر لگ رہا تھا. سارا باجی کی گاند بوہت اچھی ، تھی
بھرے بھرے ، گول گول اور نرم نرم کھولے. کسی
کا بھی ان گاند دیکھ کر لنڈ کھڑا ہو جیے گا.
میرا بھی اپنی باجی کی گاند دیکھ کر لنڈ کھڑا ہو گیا تھا
کیوں کے باجی کی گاند میری طرف تھی.عادل نے باجی کو کہا کے اپنی گاند کو میرے لنڈ پر رگرو اور باجی نے اس کا لنڈ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر ٹھیکہ اپنی چوٹ کے دہانےپر رکھ کر عادل کے لنڈ کو اپنی چوٹ پر ملنے لگیں. عادل کا مزے سے برا حال تھا وو ضبط نہیں کر پا رہا تھا.
اس نے باجی کو کمر سے پکڑ لیا اور باجی نے اس کے لنڈ کو اپنی چوٹ کے سوراخ
پر رکھ دیا تو عادل نے ایک دم زور سے اوپر
جھٹکا لگا کر لنڈ کو سارا باجی کی چوٹ میں داخل کر دیا. باجی ایک فیٹ اوپر اچھل پڑیں. مگر عادل نے باجی کو کمر سے پکڑا ہوا تھا اس لیا لنڈ پورا اندر ہی رہا اور باجی کی چیخ نکل گیئ.
سارا باجی؛؛؛ اف ہے اللهہاہاعادل پلیسے مت کرو ہے میں مر گیئ
عادل باہر نکالو اس لنڈ کو
لَکِن عادل کے کان بند تھے وو اب اپر نیچے ہونے لگا کوئی دس منٹ تک عادل باجی کو اسی اسٹیل
میں چدتا رہا . باجی کو اب درد کم ہو گیا تھا ،
پھر اس نے باجی کو سیدھا لٹایا اور خود باجی کے اپر آ کر ان کی پھددی میں اپنا لنڈ گسسا دیا اور باجی نے اس کا لنڈ اپنی چوٹ میں لے لیا بوہت آرام سے.باجی کی ننگی ٹانگیں عادل کے کندھوں
پر تھیں اور عادل کا پورا ١٠ انچ کا لنڈ سارا باجی کی چوٹ کی سیر کر رہا تھا. عادل نے اپنا لنڈ باہر نکالا اور باجی کو کروٹ لے کر لیتا دیا اور خود باجی کے پیچھے لیت گیا اور باجی کی گاند کی طرف سے ان کی چوٹ میں لنڈ ڈال دیا.
باجی کی ایک ٹانگ زمین پر اور ایک آسمان
کی طرف تھی اور بیچ میں عادل کا لنڈ باجی کی چوٹ کو فار رہا تھا
سارا باجی بولیں ؛ عادل میں نکلنے والی ہوں ،تیز تیز کرو. یا سنتے ہی عادل کی رفتار تیز ہو گئے اور ایک دم باجی شور مچانے لگیں. اور باجی نے اپنی منی اگل دی اس کے ساتھ عادل نے بھی ایک زوردار جھٹکا لگا کر اپنی منی کو سارا باجی کی چوٹ میں انڈیل دی. چاپ چاپ کی آوازیں نے ایک سامان بنا دیا تھا.
سارا باجی نے اٹھ کر دریا کے پانی سے اپنی چوٹ صاف کی اور وہاں پیشاب بھی کیا.
عادل نے سارا باجی کو پیار کیا اور دونوں اپنے اپنے خیمہ مے واپس آ گیے
میری کہانی ابھی ختم نہیں ہوے ہے
اس پارٹ کو پڑھنے کے بعد اپنی رائی ضرور دینا.
باقی حصّہ بعد میں شیرکروں گا
دوستوں آپ کا فرہاد حاضر ہے اس آپ بیتی کو موکمّل کرنے کے لئیے اب تک میں نے اپنی امی،خان صاحب ،سارا باجی ، عادل، مستی خان اور نوشین کا ذکر کیا ہے.اور اس کہانی کی سب سے
خوبصورت،دلکش، اور جذب نظر کردار کا کوئی خاص ذکر نہیں آیا ،وو ہستی میری چھوٹی بہن ماہا کاشف کی ہے جس کی امر اس وقت 14 سال ہے ..وہ ایک بوہت ہی حسین اور تباہکن جسم کی مالک ہے ایک بھولی سے صورت ،اپنے جسم کی ہوشرابوں سے غافل اور اپنی مست اداوں سے بےخبر اپنی دھن میں مگن رہتی ہےاس کا لمبا کد ، بھرا ہوا سڈول جسم ابھرتے ہوا سینہ، باہر کی طرف نکلی ہوئی گانڈ سب لوگوں کو اپنی طرف متواجوہ کر
لیتی ہیں. اوپر سے اس کا لباس جس میں سے اس کا جسم جھانکتا تھا وہ سب کو پاگل بنا دینے کے لیہ کافی تھا. میری دل اس کی طرف بوہت راغب تھا اور وہ بھی مجھ سے بوہت فری تھی
سارا باجی اور ماہا ایک ہی کمرے میں سوتے تھے اور میں الگ کمرے میں ، امی کا کوئی پتا نہیں ہوتا تھا کے وہ کہاں سوین گیں
.عادل تقریباً روز ہی سارا باجی کے روم میں رات کو اتا تھا اور ہفتے میں ایک دفع سارا باجی بھی عادل کے گھر جاتیں تھیں اور جب کبھی سارا باجی رات کو عادل کے گھر جاتیں اور امی بھی خان صاحب کے روم میں ہوتیں تو میرے مزے ہو جاتے اور میں ماہا کے روم میں جا کر اسکو دیکھا کرتا تھا اور اس کے گانڈ پر ہلکے ہلکے ہاتھ بھی پھیرتا تھا اور وہ اتنی مدہوش ہو کر سوتی تھی کے اس کو دونوں جہاں کی خبر نہ ہوتی تھی، میں نے بوہت دافع اس کو بلکل ننگا کیا تھا اور وہ کبھی جاگی نہیں تھی اور پھر میں اس کے سوتے ھوے ہی مٹہ مار دیا کرتا تھا.بس اس سے زیادہ کبھی ہمّت نہیں هوئ.لَکِن میں ایک موقے کی تلاش میں تھا اور مجھے یقین تھا کے میں کسی دن ماہا کو چھودنے میں کامیاب ہو جاؤں گا
امی کی سارا باجی پر خاص عنایت رہتی تھی ، انھوں نے کبھی سارا باجی کو کبھی کسی کام سے نہیں روکا بلکے باجی کی ہمیشہ ہمّت افزائی کی اور خاص طور عادل کے معاملے میں تو حد سے زیادہ باجی کو بوہت حوصلہ دیا ایک دن تو انھوں نے انتہا کر دی
اور باجی کو اشاروں ہی اشاروں میں یہاں تک کہہ دیا کے بچہ وچا نہ پیدا کر لینا اور اس پر باجی کا جواب بھی حیران کن تھا
انھوں نے کہا کے میں تو سمبھال لوں گی اپ انپا خیال کریں
امی شرمندہ ہو کر واپس لوٹ گیئں، سارا باجی بوہت خود سر تھیں لَکِن عادل، میرے اور ماہا کے ساتھ ان کا رویہ بوہت اچھا تھا لیکن
ہم سب ان سے بوہت ڈرتے تھے، اور امی تو ان سے کچھ زیادہ ہی خوفزدہ رہتیں تھیں اور اس لیہ ان کو مہینے کا جیب خرچ
بھی سب سے زیادہ ملتا تھا پورے پانچ ہزار روپے اور ہم دونوں کو پانچ سو روپیہ اور اس کی وجہ صاف تھی کے سارا باجی کو امی کے کرتوتوں سے پر واقفیت تھی، وو امی کو خان
صاحب کے ساتھ بوہت دافع رنگے ہاتھوں پکڑ چکی تھیں،خان صاحب کی عنایتیں ہم پر بھرتیں ہی رہیں ، جب ہمارا گھر کراے
پر نہیں گیا تو خنصہیب نے امی ٢٥٠٠٠ ہزار کے بجاے ٣٥٠٠٠ ہزار دینے لگے اور سارے گھر کا خرچہ بھی ووہی اٹھاتے تھے
اور اس کی وجہ سے سارا باجی نے ان کو کبھی کچھ نہیں کہا اور وہ بھی سارا باجی کو الگ سے جیب خرچ دیا کرتے امی کو بتاۓ بغیر.
خیر میں اب اصل کہانی کی طرف اتا ہوں، امی اور خان صاحب کا میل جول اب اتنا بڑھ گیا تھا کے لوگ امی کو خان صاحب کی بیوی خیال کرتے تھے اور امی یہ خان صاحب نے اس کی کبھی تردید نہیں کی. یہی حال سارا باجی اور عادل کا تھا بس فرق اتنا تھا کے امی کے تعلقات خان صاحب کے علاوہ اور لوگوں سے بھی تھے لیکن سارا باجی صرف عادل سے ہی چدواتیں تھیں
اور میں نے بھی نوشین کو بوہت بار چودہ اور مستی خان اور عادل سے بوہت گانڈ مروای، مستی خان کا ١٠ انچ کا لنڈ لینے سے میری گانڈ کا سوراخ بڑا ہو گیا تھا
ایک دن یہ ہوا کے میں اسکول سے جلدی گھر آگیا، اس دن سارا باجی بھی اسکول نہیں گیئں تھیں ،صرف ماہا اور نوشین اسکول میں تھیں، میں کوئی ١١ بجے گھر آیا تو گھر میں کوئی نہیں تھا .پہلے میں امی کے روم میں گیا تو وہاں امی نہیں تھیں پھر سارا باجی کے روم گیا تو وو بھی کمرے میں نہیں تھیں
میں سیدھا خان صاحب کے گھر گیا تو وہاں مستی خان کو دیکھا جو عادل کے روم کی کھڑکی کے کھڑا اندر کی طرف جھانک رہا تھا.
میں حیران تھا کے وو کیا دیکھ رہا ہے، میں دھیرے سے بغیر آواز کیا اس کے پیچھے سے آکر جو اندر کمرے میں دیکھا تو سارا باجی عادل کا لنڈ چوس رہیں تھیں اور دونوں الیف ننگے تھے
،آدلی بستر پر لیتا ہوا تہ اور سارا باجی بستر پر بیٹھ کر ،جھکی ہوئی عادل کا لنڈ چوس رہیں تھیں
مستی خان کو میری مجودگی کا احساس ہو گیا لیکن اس نے کسی گھبراہٹ کا اظہار نہیں کیا شاید اس کو سارا باجی اور امی کے بارے میں سب کچھ معلوم تھا .اور یہ بھی کے وو میری گانڈ بوہت دافع مار چکا تھا اور اس کو کوئی دڑ نہیں تھا مجھ سے
سارا باجی کی پشت کھڑکی کی طرف تھی اور پلنگ بلکل کھڑکی کے پاس تھا ،جس کی وجہ سے سارا باجی کی پوری گانڈ ہم دونوں کو صاف نظر آرہی تھی. سارا باجی کی ننگی اور خوبصورت گانڈ کو دیکھ کر میرا لن بھی کھڑا ہوگیا تھا، مستی خان کا تو پہلے ہی تنا ہوا تھا. مستی خان نے مجھے میری کمر سے پکڑ کر اپنے آگے کھڑا کر لیہ اور میری گانڈ پر اپنے لنڈ کو رگڑنے لگا،میں نے اپنے پاجامے کو اپنے گھٹنوں تک نیچے کر لیہ اور تھوڑا سا جھک بھی گیا تاکے مستی خان کا لند میری گانڈ کے سوراخ کے اندر چلا جیے.
ادھر سارا باجی عادل لنڈ چوسنے میں مشغول تھیں اور وو اپنے ہاتھ کی انگلی عادل کی گانڈ کے اندر اور باہر کر رہی تھیں اور عادل لذّت کے سبب اپنی گانڈ کو اوپر نیچے کر رہا تھا اور سارا باجی کو کہہ رہا تھا کے تیز تیز کرو.
سارا باجی بولیں؛؛ عادل جان اب تم کرو میں تھک گیئ ہوں
عادل بولا ؛؛ سارا اچھا لیکن آج میں تمہاری گانڈ ماروں گا
سارا باجی؛ نہیں عادل درد ہوتا ہے گانڈ مروانے میں
عادل؛؛ تھوڑی سا ہوتا ہے جب گانڈ کا سوراخ کھل جاتا ہے تو درد نہیں ہوگا، تم کو تو پتا ہے اور تم نے پہلے بھی کروایا ہے اپنی گانڈ میں
سارا باجی بولیں ؛ ہاں لیکن درد تو ہوا تھا، اچھا لیکن آہستہ آہستہ اور آرام سے کرنا اور ے کہہ کر باجی گھوڑی بن گیئں
اور عادل نے سارا باجی کی گانڈ پر تھوک لگائ اور اپنا لن ان گانڈ کے سوراخ پر ٹکا دیا اور اپنا ٹوپا اندر کر دیا،سارا باجی درد کی شدّت سے بلبلا اٹھیں،لیکن عادل کی گرفت سے نکال نہ سکیں اور عادل سارا باجی کی گانڈ پوری قویت سے مار رہا تھا اور باجی درد سے کرہا رہیں تھیں
ایک دم عادل نے کھڑکی کی طرف دیکھا تو میں گھبرا گیا کے شاید عادل نے مجھ کو دیکھ لیہ ہے اور میں نے مستی خان کو کہا کے تم میرے گھر آجاؤ، تو مستی خان نے مجھے کہا کے تم جاؤ میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں. اور میں اپنی شلوار اوپر کر کے اپنے گھر چلا آیا.ابھی میں مستی خان کا انتظار کر ہی رہا تھا کے سارا باجی بھی گھر آ گیئں اور ان کے پیچھے پیچھے عادل بھی آیا. اور سیدھے سارا باجی کے کمرے میں چلا گیا،میں نے سوچا کے کوئی گڑبڑ هوئ ہو گی جبھی عادل باجی کے پیچھے آیا ہے.
میں بھی اٹھ کر سارا باجی کے روم گیا اور جب دروازے کے قریب پونھچا تو مجھے باجی کے تیز تیز اور غصے سے بولنے کی آواز آی.
سارا باجی؛؛؛ تم میرے ساتھ یہ کرو گے مجھے اس کی امید نہیں تھی،اس کمینے کی ہمّت کیسے هوئ مجھے ہاتھ لگانے کی،میں اس کو زندہ نہیں چوروں گی
عادل؛؛؛ مجھے معلوم نہیں یہ سب اس نے کیوں کیا
سارا باجی؛؛ تم چلے جاؤ
عادل؛سارا میری بات تو سن لو
سارا باجی؛نہیں تم دافع ہو جاؤ اس کمرے سے،اور میں تم سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی اور وو رونے لگیں
عادل گھبرا گیا اور بولا؛؛ سارا تمہاری اور میری تصویریں ہیں مستی خان کے پاس اور اس نے اپنے موبائل سے میرے اور ت تمہاری ننگی فلم بنےبنائی ہے اور اس نے مجھے دھمکی دی ہے کے اگر سارا نہ مانی تو وہ یہ فلم تماری امی کو دے گا
یہ بات سن کر باجی کی تو جان نکل گیئ،
وو بےجان آواز میں بولیں ؛؛ نہیں تم جھوٹ بول رہے ہو
سارا باجی کا رنگ پلا پڑگیا اور ان آواز بلکل بند ہو گی تھی
عادل بولا؛؛بس ہممے وو تصویریں اور فلم لینی ہے مستی خان سےاور یہ تم کر سکتی ہو بس تم اس کی بات مان لو اور جو وہ کہتا ہے وہ مان لو
سارا باجی ؛؛ عادل یہ تم کہہ رہے ہو
عادل ؛؛ ہاں سارا میں تم سے پیار کرتا ہوں اور کل ہی ابا سے تم سے شادی کی بات کرتا ہوں
سارا باجی شادی کا سن کر بوہت خوش ہوئیں
اور بولیں عادل تم کو پتا ہے کے مستی خان مجھ سے کیا چاہتا ہے اور میرے ساتھ وو کیا کرے گا
عادل؛ وو جو بھی کرے تم کر دینا
عادل ؛؛؛ تم میرے گھر آ جاؤ اور گھبرانا مت میں ہوں نہ ساتھ تمھارے
سارا باجی ؛؛ اچھا چلو
پھر وو دونوں عادل کے گھر چلے گیے
اس وقت کوئی ١١ بجے تھے اور ابھی امی اور خان صاحب کے انے میں بوہت وقت تھا.
ان کے جانے کے تھوڑی دیر کے بعد میں بھی عادل کے گھر گیا تو وو کھڑکی جہاں سے ہم نے سارا باجی کی چودائی دیکھ رہے تھے بند تھی،میں ہال کے راستے سے اندر چلا گیا
برآمدے کی کھڑکی کھلی هوئ تھی اور اس پر پردہ ڈالا ہوا تھا
میں نے پردہ ہٹا کر اندر جھانکا تو سارا باجی مستی خان سے باتیں کر رہیں تھنن اور مستی خان بلکل ان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور عادل کمرے میں نہیں تھا.مستی خان کے بازو باجی کے کندھوں پر تھے.مستی خان بولا ؛؛ سارا تم کو تمہارا فوٹو اور فلم میں واپس دے گا پر تم ہمارا دل پورا کر دو
سارا باجی ؛؛ میں صرف آج تمہاری بات مانو گی
مستی خوش ہو کے بولا؛؛ ہاں
پھر مستی نے سارا باجی کو اپنے دونوں بازوں میں بھیج لیہ اور بوسے کرنے لگا.مستی خان نے سارا باجی کو کھڑا کر لیے اور اپنے ساتھ لپٹا لیہ اور باجی کی گانڈ کو دبانے لگااور اپنے ہونٹ سارا باجی کے ہویٹون میں پوست کر دیا،سارا باجی نے شلوار اور قمیض پہنی هوئ تھی،اور وو بھی ڈھلی اور بارے بارے چاک والی،جب مستی خان اپنی شلوار اتری تو اس کا لنڈ دیکھ کر سارا باجی کے ہوش اڑ گیے. باجی نے عادل کو آواز دی مگر عادل وہاں تھا ہی نہیں جو آتا.
اس دوران مستی خان کی مستیاں بڑھ گیئں اور اس سارا باجی کی الاسٹک والی شلوار اتار دی اور باجی کے چوتڑوں دبانے لگا.وو اتنے زور سے دبا رہا تھا کے باجی کو بھی درد ہونے لگا
مستی خان نے سارا باجی کی قمیض بھی اتار دی ، باجی نے برا نہیں پہنا تھا اور اب وو بلکل ننگی ہو گیئں تھیں، پھرمستی خان نے باجی کو صوفے پر لیٹا دیا اور خود سارا باجی کی رانوں کے درمیان زمین پر بیٹھ گیا اور اپنے ہونٹوں سے سارا باجی کی چوٹ چاٹنے لگا،اس کی کھردری اور ٹھوس زبان نے سارا باجی کو مزے سے بےحال کر دیا. سارا باجی فل مستی میں آگیئں اور مستی خان کا سر اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر اس کو اپنے تاگوں میں بھینج لیہ.مستی خان سارا باجی کو راضی دیکھ کر اور بھی شیر ہو گیا اور اس نے ان کی چوٹ میں انگلی بھی کرنی شروح کر دی سارا باجی کو مزہ انے لگا تھا
انھوں نے مستی خان کو اپنے اوپر انے کو کہا،اور اس کے لنڈ
کو اپنے مونہ میں لےلیا اور چوسنے لگیں،باجی کی زبان مستی خان کے لنڈ اور ٹٹتوں کو چاٹ رہی تھی.مستی خان تو بلکل مست ہو گیا تھا،اس نے سارا باجی کی رانوں کو سیدھا کیا اور پھر ان کی رانوں کے درمیان آکر اپنا ١٠ یہ ١١ انچ کا لنڈ سارا باجی کی پھددی کے دہانے پر رکھ دیا، باجی کی پھددی تو پہلے ہی گیلی ہو گیئ تھی اور گرم بھی تھی
مستی خان نے سارا باجی کی چوٹ پر لن رکھ کر اسے اندر کرنے کی کوشش تو باجی کو درد ہونے لگا،باجی نے مستی خان کو روکا اور کہا کے تم نیچے آجاؤ اور خود اس کے اوپر آگیئں،باجی نے اپنی ایک ٹانگ مستی خان ران کے ایک طرف اور دوسری ران کے دوسری طرف رکھ کر ،اپنے پاؤں کے بل بیٹھ گیئں ،ان کی گانڈ اب مستی خان کے پیت کے اوپر تھی،
سارا باجی نے مستی خان کا لنڈ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اس کو اپنی پھددی کے سوراخ پر رکھ لیہ اور ہلکے سے اوپر سے نیچے کی طرف زور لگایا،
تھوڑا اوپر نیچے ہونے کے بعد مستی خان کے لنڈ کا ٹوپا میری بہن کی چوٹ میں چلا گیا،باجی کے چہرے سے لگ رہا تھا کے سارا باجی کو درد ہو رہا ہے لیکن سارا باجی روکیں نہیں اور ہلکے ہلکے اوپر سے نیچے ہوتیں رہیں یہاں تک کے مستی کا لنڈ پورا ان کی پھددی میں گھس گیا،اور اب مستی خان بھی اوپر کی طرف دھکے لگانے لگا
دونوں اب تیزتیز چودائی کرنے لگے مستی خان کا لنڈ اب بھیڑ کسی روکاوٹ کے سارا باجی کی پھددی میں آ اور جا رہا تھا
میں باجی کے چہرے پر وہ اطمینان دیکھ رہا تھا جو ان کے چہرے پر عادل سے چودونے میں ہوتا تھا
مستی خان نے سارا باجی کو سیدھا لیٹنے کو کہا اور باجی اس کے اوپر سے اتر کر بستر پے لاتے گیئں. باجی کی پھددی گیلی اور کھلی کھلی سے ہو گیئ تھی،مستی خان سارا باجی کے اوپر لیٹ گیا اور اپنے لنڈ سارا باجی کی چوٹ میں دیا ،باجی نے کسی قسم
کی تکلیف کا اظہر نہیں کیا اور مزے سے چھدوا رہیں تھیں
انھوں نے اپنی ٹاگیںمستی خان کی کمر میں پسھا ہوییں تھیں
اور مستی خان کا پورا ساتھ دے رہیں تھیں
کوئی دس منٹ تک سارا باجی کو مستی خان اسی طریقے سے لنڈ ڈالتا رہا پھر جب وہ فراغ ہونے لگا تو اس نے باجی کی ٹاگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں اور زور زور سے باجی کی چوٹ میں اپنا لنڈ گھسستا رہا،باجی کی چوٹ اس کے زوردار جھٹکوں سے فراغ ہو گیئ اور اپنی منی چھوڑ دیا ،اسی دوران مستی خان کے لنڈ نے سارا باجی کی چوٹ اپنی منی سے بہر دی اور دونوں ایک ہی وقت میں نکل گیے.
سارا باجی اور مستی خان دونوں صوفے پر بیٹھ گیے. ایک وہ وقت تھا کے سارا باجی مستی خان سے بات بھی نہیں کرتیں تھیں اور اب یہ تھا کے وہ مستی خان کے ساتھ ننگیں بیٹھی تھیں
مستی خان نے باجی کو پیار کیا اور جواباً باجی نے بھی مستی خان کو ہوتوں پر پیار کیا.
مستی خان بولا؛ سارا بوہت مزہ آیا مجھے اور تم بوہت گرم ہو
سارا باجی بولیں؛ مستی خان تم بوہت تکڑے ہو
مستی خان ؛؛ سارا کیا ہم دوبارہ بھی کبھی چودائی کریں گے
سارا باجی چپ رہیں
مستی خان پھر بولا؛؛ قسم سے میں کبھی عادل بابا کو یہ بات نہیں باتوں گا.
سارا باجی بولیں ؛؛ مستی خان اس بات کا کبھی عادل کو نہ پتا چلے
مستی خان خوش ہو کر بولا؛؛ سارا جان کبھی نہیں پتا چلے گا اس کو
اتنے میں دروازہ کھٹکا اور مستی خان نے دروازہ کھول دیا تو وہاں عادل تھا. سارا باجی غوسل کرنے چلیں گیئں .
مستی خان نے عادل کو کان میں کہا ؛؛ عادل تم نے خوش کر دیا
پھر جب سارا باجی ییں تو مستی خان نے اپنا موبلے جس میں فلم تھی باجی کو دیا اور کہا اس کو ختم کر دو
اور باہر چلا گیا
میں بھی اپنے روم میں واپس آگیا
دوپہر کے وقت امی اور خان صاحب بھی واپس اگیعے اور کچھ دیر کے بعد مستی خان بھی نوشین اور ماہا کو اسکول سے واپس لے آیا، پھر ہم سب نے کھانا کھایا، موسم بوہت گرم تھا کھانے کے بعد خان صاحب،عادل اور نوشین اپنے گھر چلے گیے اور مہم سب بھی امی کے روم میں سونے آ گے، امی کے روم کولر لگا ہوا تھا اس لیہ ہم سب دوپہر کو ووہیں سوتے تھے امی اور سارا باجی پلنگ پر سوئیں،اور میں دری پر اور ماہا صوفے پر، امی،سارا باجی اور ماہا تھکی ہوئیں تھیں اس لیہ ان کو جلدی نیند آگیی، لیکن میری آنکھوں میں نیند کا نشان دور دور تک نہ تھا
جب روم بلکل ٹھنڈا ہوگیا تو میں نے پردے ڈال کر کمرے میں اندھیرا کر دیا،جب امی اور سارا باجی کے خررتوں کی آواز آی تو مجھے اطمینان ہوا کے وو اب سو چکے ہیں
پھر میں اٹھ کر ماہا کے پاس چلا گیا جو بےخبر سو رہی تھی،صوفہ اس کے قد سے لمبائی میں چھوٹا تھا اس لیہ وو اپنی ٹاگیں سمیٹ کر سوے هوئ تھی،اس کا مونہ صوفے کی بیک کی طرف تھا اور اس کے کہولے میری طرف تھے اور باہر کی طرف نکلے ھوے تھے اور ماہا کی قمیض بھی اس کی گانڈ کے اوپر سے ہٹ گی تھی،پھر اس کا ایک ہاتھ صوفے کی بیک سیٹ پر تھا اس کی وجہ سے قمیض اور اوپر کی طرف کھیچ گیی تھاجس سے اس کی کمر بھی عریان ہو گی تھی.
ماہا کی شلوار اس کے چوتڑوں میں گھسسی ہوئی تھی ،یہ دیکھ کر میرا لنڈ کھڑا ہو گیا تھا
میں صوفے کے ساتھ زمین پر بیٹھ گیا اور میرا مونہ ماہا کی گانڈ سے اتنا قریب تھا کے میں اس کی گانڈ کو سونھگ رہا تھا،میں نے ماہا کی گانڈ پر اپنا مونہ رکھ دیا لیکن آہستہ کے اس کی آنکہ نہ کھل جاے؛؛؛؛،کم روشنی کی وجہ سے مجھے آسانی تھی کے اگر امی یہ سارا جاگ جاتیں تو میں ان کی نظر سے اوجھل رہتا اور اس دوران میں اپنے آپ کو اڈجست کر لیتا
ماہا کی شلوار میں ہک لگے ھوے تھے اور چار ہکوں میں سے دو کھولیے ھوے تھے جس میں سے اس کی گورے گورے جسم صاف نظر آرہا تھا،میں نے ان ہکوں کے درمیان سے اپنی انگلی ڈال دی جو اس کے پیت کے نچلے حصے تک گی.میرے زور لگانے سے اس کے باقی ہک بھی ٹوٹ گیے اور اس کی شلوار کھل گی اور اس کی شلوار گانڈ سے نیچے ڈھلک گی اور اس کی آدھی گانڈ ہو گی
میں نے جان بوج کر کوئی ١٠ منٹ تک خاموشی اختیار کر لی
اور جب ماہا نے کوئی حرکت نہیں کی تو میں نے پھر آہستہ سے ماہا کی گانڈ پر ہاتھ رکھ دیا ،میں ڈربھی رہا تھا کے کوئی ایسی ویسی بات نہ ہو جاے،لیکن ایسا ویسا کچھ نہیں ہوا اور میں اپنی بہن کے جسم کو دیکھتا اوراس پر ہاتھ لگاتا رہا.میں نے کی دافع ماہا کی گانڈ میں شلوار کے اوپر سے اپنا لنڈ راگھڑا،اور میں نے اپنے لنڈ کو کچھ دیر تک ماہا کی گانڈ کے سوراخ پر تکا کر رکھا اور نے کوئی ھلیجل نہیں دکھائی.
تقریباں میں ایک گھنٹے تک ماہا سے کھیلتا رہا اور جب امی کے جاگنے کا وقت ہوا تو میں نے ماہا کی شلوار ٹھیک کر دی اور کمرے سے باہر آگیا اور اپنے کمرے میں جا کر مٹہ ماری.
پھر شب و روز ایسے ہی گذرتے رہے.
امی اور خان صاحب میں پیار بھرتا رہا ،عادل اور سارا باجی بھی ایسے ہی لگے رہے،عادل اور میں نے بوہت دافع ایک ساتھ مستی خان سے گانڈ مروای، میں نے بھی نوشین کو کافی چودہ اور تو اور سارا باجی نے بھی مستی خان سے کی بڑی چدوایا..اور بھی اپنی خواہش کو انجام تک پوچھنے کی کوشش میں لگا رہا
یعنی ماہا کو چھودنے کی خواشش،
پھر ایک دن قسمت مجھ پر مہربان ہو گی،وہ دن میں کبھی بھول نہیں سکتا
اس صبح جب ہم اسکول جانے لگے تو امی میرے روم میں ییں اور کہا کے آج ماہا کو اسکول سے جلدی چھٹتی ہو گی اور اس کو دس بجے گھر واپس لینا،میں بڑا خوش ہوا اور امی سے پوچھا کے آپ تو گھر پے ہونگیںتو امی نے بتایا کے وہ خان صاحب کے ساتھ کہیں جائیں گیں
خیر میں ماہا کو اسکول سے لے کر گھر آگیا،گھر میں صرف مستی خان تھا اور وہ بھی بازار جانے والا تھا.
میں نے اپنے کمرے میں آکرکپڑے بدل لیہ اوربرامدے میں بیٹھ گیا
باہر مستی خان گاڑی دھونے میں لگا ہوا تھا وہ اپنی قیض اتار .
کر اور اپنی شلوار چڑھا کر گاڑی کو دھو رہا تھا.
اس کی ٹاگیں ننگیں تھیں اور کرپے بھیگے ھوے تھے اور اک کا لنڈ لٹکا ہوا نظر آ رہا تھا.اتنے میں ماہا بھی باہر آگیی اور میرے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیی،اس نے ہرے رنگ کی قمیض اور
سفید پٹیالہ شلوار پہنی هوئ تھی
مستی خان ہمارے قریب ہی گاڑی صاف کر رہا تھا مگر اس کی نظر ماہا پر تھی اور میں یہ سوچ رہا تھا کے کب مستی خان بازار جاتا ہے
آخر مستی نے گاڑی صاف کر لے اور کپڑے بدل گاڑی میں چلا گیا
اس وقت سخت دھوپ تھی ،میں نے ماہا کو کہا آو اندر چلتے ہیں یہاں بوہت گرمی ہے،ہم دونوں امی کے روم میں اکر روم کولر چلا دیا.
اب میں ماہا سے بات بھرھانے کا طریقہ سوچنے لگا
میں تو یہ سوچ لیہ تھا کے آج کا دن ضیا نہیں کروں گا اور ماہا کو چود کر ہی دم لوں گا
ماہا پڑھائی میں بوہت کمزور تھی اور ہر دافع امی اس پاس کرواتیں تھیں
میں؛؛؛ ماہا پڑھائی کیسی ہو رہی ہے
ماہا بولی ؛؛ بھیا ٹھیک ہو رہی ہے
پھر میں چپ ہو گیا تو ماہا بولی کے ابا کب واپس ییں گے
میں بولا ؛؛؛پتا نہیں وہ کہاں ہیں ؛؛ کسی کو ان کی فکر ہی نہیں ہے
ماہا بولی؛؛ بھیا ذرا امی کو اور باجی کو کیا ہو گیا ہے
میں انجان بن کے بولا ؛؛؛ کیا ہوا
ماہا کوئی بچی نہیں تھی اور وو سب کچھ جانتی تھی کے گھر میں کیا ہو رہا ہے
ماہا بولی؛؛ بھیا آپ کو نہیں پتا
میں بولا ؛؛ ماہا میں سب دیکھ رہا ہوں لیکن بےبس ہوں،امی اور باجی کا ہال مجھے بھی پتا ہے، لیکن خان صاحب ہماری مالی مدد کرتے ہیں،اور پھر ابا جان کافی عرصے سے باہر ہیں اور ان کا کوئی آتا پتا بھی نہیں ہے، امی کو بھی کسی مرد کا ساتھ ضروری ہے،وہ کب تک اکیلے زندگی گزاریں گی، ان کے بھی جذبات ہونگے
میں جان بھوجھ کر امی کی باتیں کر رہا تھا کے ماہا امی کے عمل کو جائز سمجھے اور ان میں کوئی گناہ محسوس نہ کرے
میں بولا ؛؛؛ ماہا تم ابھی کم عمر ہو تم نہیں سمجھو گی ان باتوں کو، تمہیں کیا پتا کے شادی شدہ عورت کی کیا کیا ضروریات ہوتیں ہیں،ماہا امی صہی کر رہیں ہیں،
میں نے ماہا کو خاموش دیکھ کر کہا؛؛؛ کیا سوچ رہی ہو
ماہا بولی ؛؛؛ بھیا کچھ نہیں،بس یہ کے امی کی بات تو ٹھیک لگتی ہے مگر آپ سارا باجی کو کیا کہو گے
میں نے ماہا سے پوچھا؛؛؛ تم کو یہ سب کیسے معلوم ہوا
ماہا چپ ہو گیی میری بات سن کر اور گھبرا بھی گیی
میں نے پھر اس سے پوچھا تو اس نے بتایا کے اسے مستی خان نے بتایا تھا.
میرا تو دماغ گھوم گیا ماہا کی بات سن کراور میں نے ماہا کو کہا کے مستی خان نے تمہے اور کیا کچھ بتایا ہے؛میں ڈر رہا تھا کے کہیں مستی خان نے ماہا کو میرے موتالق تو نہیں بتایا
ماہا بولی ؛؛


0 comments:

Post a Comment

 

© 2011 Sexy Urdu And Hindi Font Stories - Designed by Mukund | ToS | Privacy Policy | Sitemap

About Us | Contact Us | Write For Us