میرا عزیز شوہر

یہ کہانی ہندی میں تھی میں نے اس کا اردو میں ترجمعہ کیا ہے

مصنفہ: نجمہ ورما
میری شادی ہوئے تقریبا دس سال ہو گئے تھے. ان دس سالوں میں میں اپنے شوہر سے ہی تن کا سکھ حاصل کرتی تھی. انہیں اب ڈايبٹيج ہو گئی تھی اور کافی بڑھ بھی گئی تھی. اسی وجہ سے انہیں ایک بار هرديگھات بھی ہو چکا تھا. اب تو ان کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ ان کے لنڈ کی كساوٹ بھی ڈھیلی ہونے لگی تھی. لنڈ کا كڑكپن بھی نہیں رہا تھا. ان کا ششن میں بہت شتھلتا آ گئی تھی. ویسے بھی جب وہ مجھے چودنے کی کوشش کرتے تھے تو ان کی سانس فول جاتی تھی، اور دھڑکن بڑھ جاتی تھی. اب دھیرے دھیرے رنویر سے میرا جسمانی تعلق بھی ختم ہونے لگا تھا. پر ابھی میں تو اپنی بھرپور جوانی پر تھی، 35 سال کی ہو رہی تھی.

جب سے مجھے یہ محسوس ہونے لگا کہ میرے شوہر مجھے چودنے کے قابل نہیں رہے تو مجھ پر ایک نفسیاتی اثرات ہونے لگا. میری چدائی کی خواہش بڑھنے لگی تھی. راتوں کو میں واسنا سے تڑپنے لگی تھی. رنویر کو یہ پتہ تھا پر مجبور تھا. میں ان کا لنڈ پکڑ کر خوب ہلتے تھی اور ڈھیلے لنڈ پر مٹھ بھی مارتی تھی، پر اس سے تو ان کا ویرے سکھلت ہو جایا کرتا تھا پر میں تو پیاسی رہ جاتی تھی.

میں من ہی من میں بہت اداس ہو جاتی تھی. مجھے تو ایک مضبوط، سخت لؤڑا چاہئے تھا! جو میری چوت کو جم کے چود سکے. اب میرا من میرے بس میں نہیں تھا اور میری نگاہیں رنویر کے دوستوں پر اٹھنے لگی تھی. ایک دوست تو رنویر کا خاص تھا، وہ اکثر شام کو آ جایا کرتا تھا.

میرا پہلا نشانہ وہی بنا. اس کے ساتھ اب میں چدائی کا تصور کرنے لگی تھی. میرا دل اس سے چدانے کے لئے تڑپ جاتا تھا. میں اس کے سامنے وہی سب گھسي - پٹي تركيبے آزمانے لگی. میں اس کے سامنے جاتی تو اپنے چھاتیوں کو جھکا کر اسے عکاسی کرتی تھی. اسے بار بار دیکھ کر متلبي نگاہوں سے اسے اكساتي تھی. یہی تركيبے اب بھی كرگار ثابت ہو رہی تھی. مجھے معلوم ہو چکا تھا تھا کہ وہ میری گرفت میں آ چکا ہے، بس اس کی شرم توڑنے کی ضرورت تھی. میری یہ حرکتیں رنویر سے نہیں چھپ سکی. اس نے بھانپ لیا تھا کہ مجھے لنڈ کی ضرورت ہے.

اپنی مجبوری پر وہ اداس سا ہو جاتا تھا. پر اس نے میرے بارے میں سوچ کر شاید کچھ فیصلہ کیا تھا. وہ سوچ میں پڑ گیا ...

"کومل، تمہیں بھوپال جانا تھا نا ... کیسے جاؤ گی؟"

"ارے، وہ ہے نا تمہارا دوست، راجہ، اس کے ساتھ چلی جاؤنگی!"

"تمہیں پسند ہے نا وہ ..." اس نے میری طرف سوني آنکھوں سے دیکھا.

میری آنکھیں ڈر کے مارے پھٹی رہ گئی. پر رنویر کے آنکھوں میں پیار تھا.

"نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے ... بس مجھے اس پر یقین ہے."

"مجھے معاف کر دینا، کومل ... میں تمہیں مطمئن نہیں کر پاتا ہوں، برا نہ مانو تو ایک بات کہوں؟"

"جی ... ایسی کوئی بات نہیں ہے ... یہ تو میری قسمت کی بات ہے ..."

"میں جانتا ہوں، راجہ تمہیں اچھا لگتا ہے، اس کی آنکھیں بھی میں نے پہچان لی ہے ..."

"تو کیا؟ ..." میرا دل دھڑک اٹھا.

"تم بھوپال میں دو تین دن اس کے ساتھ کسی ہوٹل میں رک جانا ... تمہیں میں اور نہیں بادھنا چاہتا ہوں، میں اپنی کمزوری جانتا ہوں."

"جانو ... یہ کیا کہہ رہے ہو؟ میں زندگی بھر ایسے ہی رہ لوں گی." میں نے رنویر کو اپنے گلے لگا لیا، اسے بہت چوما ... اس نے میری حالت پہچان لی تھی. اس کا کہنا تھا کہ میری معلومات میں تم سب کچھ کرو تاکہ وقت آنے پر وہ مجھے کسی بھی پریشانی سے نکال سکے. راجا کو بھوپال جانے کے لیے میں نے راضی کر لیا.

پر رنویر کی حالت پر میرا دل رونے لگا تھا. شام کی ڈیلکس بس میں ہم دونوں کو رنویر چھوڑنے آیا تھا. بادشاہ کو دیکھتے ہی میں سب کچھ بھول گئی تھی. بس آنے والے لمحات کا انتظار کر رہی تھی. میں بہت خوش تھی کہ اس نے مجھے چدانے کی چھوٹ دے دی تھی. بس اب بادشاہ کو راستے میں پٹانا تھا. پانچ بجے بس روانہ ہو گئی. رنویر سوني آنکھوں سے مجھے دیکھتا رہا. ایک بار تو مجھے پھر سے رولاي آ گئی ... اس کا دل کتنا بڑا تھا ... اسے میرا کتنا خیال تھا ... پر میں نے اپنے جذبات پر جلدی ہی قابو پا لیا تھا.

ہمارا ہنسی مذاق سفر میں جلدی ہی شروع ہو گیا تھا. راستے میں میں نے کئی بار اس کا ہاتھ دبایا تھا، پر اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی. پر کب تک وہ اپنے آپ کو روک پاتا ... آخر اس نے میرا ہاتھ بھی دبا ہی دیا. میں خوش ہو گئی ...

راستہ کھل رہا تھا. میں نے ایک دم تن سلوار کرتا پہن رکھا تھا. اندر پیںٹی نہیں پہنی تھی، برا بھی نہیں پہنی تھی. یہ میرا پہلے سے ہی سوچا ہوا پروگرام تھا. وہ میرے ہاتھوں کو دبانے لگا. اس کا لنڈ بھی پینٹ میں ابھر کر اپنی موجودگی درشا رہا تھا. اس کے لنڈ کے كڑكپن کو دیکھ کر میں بہت خوش ہو رہی تھی کہ اب اسے لنڈ سے مستی سے چدائی کروں گی. میں کسی بھی حالت میں بادشاہ کو نہیں چھوڑنے والی تھی.

"کومل ... کیا میں تمہیں اچھا لگتا ہوں ...؟"

"ہوں ... اچھے لوگ اچھے ہی لگتے ہیں ..." میں نے جان کر اپنا چهرا اس کے چہرے کے پاس کر لیا. راجا کی تیز نگاہیں دوسرے لوگوں کو پرکھ رہی تھی، کہ کوئی انہیں دیکھ تو نہیں رہا ہے. اس نے دھیرے سے میرے گال کو چوم لیا. میں مسکرا اٹھی ... میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کی جاگھو پر رکھ دیا اور ہولے ہولے سے دبانے لگی. مجھے جلدی شروعات کرنی تھی، تاکہ اسے میں بھوپال سے پہلے اپنی اداوں سے زخمی کر سکوں.

یہی ہوا بھی ...... سيٹے اونچی تھی لہذا وہ بھی میرے گلے میں ہاتھ ڈال کر اپنا ہاتھ میری چوچیوں تک پہنچانے کی کوشش کرنے لگا. پر ہاے رام! بس ایک بار اس نے سخت چوچیوں کو دبایا اور جلدی سے ہاتھ ہٹا لیا. میں تڑپ کر رہ گئی. بدلے میں میں نے بھی اس کا ابھرا لنڈ دبا دیا اور براہ راست ہو کر بیٹھ گئی. پر میرا دل خوشی سے بلليو اچھل رہا تھا. بادشاہ میرے قبضے میں آ چکا تھا. اندھیرا بڑھ چکا تھا ... تبھی بس ایک مڈ - وہ پر رکی.

بادشاہ دونوں کے لئے سرد مشروبات لے آیا. کچھ ہی دیر میں بس چل پڑی. دو گھنٹے بعد ہی بھوپال آنے والا تھا. میرا دل سرد مشروبات میں نہیں تھا بس بادشاہ کی طرف ہی تھا. میں ایک ہاتھ سے مشروبات پی رہی تھی، پر میرا دوسرا ہاتھ ... جی ہاں اس کی پینٹ میں کچھ تلاش کرنے لگا تھا ... گڑبڑ کرنے میں مگشول تھا. اس کا بھی ایک ہاتھ میری چکنی جاںگھوں پر فسل رہا تھا. میرے جسم میں تراوٹ آنے لگی تھی. ایک طویل عرصے کے بعد کسی مرد کے ساتھ رابطہ ہونے جا رہا تھا. ایک سولڈ تنا ہوا لنڈ چوت میں داخل ہونے والا تھا. یہ سوچ کر ہی میں تو نشے میں کھو گئی تھی.

تبھی اس کی انگلی کا لمس میرے دانے پر ہوا. میں سنگھ اٹھی. میں نے جلدی سے ادھر ادھر دیکھا اور کسی کو نہ دیکھتا پا کر میں نے چین کی سانس لی. میں نے اپنی چنی اس کے ہاتھ پر ڈال دی. اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر اس نے میری چوچیاں بھی سہلا دی تھی. میں اب آزاد ہو کر اس کے لنڈ کو سہلا کر اس کی موٹائی اور لمبائی کا جائزہ لے رہی تھی.

میں بار بار اپنا منہ اس کے ہونٹوں کے قریب لانے کی کوشش کر رہی تھی. اس نے بھی میری طرف دیکھا اور میرے پر جھک گیا. اس کے کسی گیلے ہونٹ میرے ہونٹوں کے قبضے میں آ گئے تھے. موقع دیکھ کر میں نے پینٹ کی زپ کھول لی اور ہاتھ اندر گھسا دیا. اس کا لنڈ انڈرویر کے اندر تھا، پر ٹھیک سے پکڑ میں آ گیا تھا.

وہ تھوڑا سا وچلت ہوا پر ذرا بھی مخالفت نہیں کیا. میں نے اس کی انڈرویر کو ہٹا کر ننگا لنڈ پکڑ لیا. میں نے جوش میں اس کے ہونٹوں کو زور سے چوس لیا اور میرے منہ سے چوسنے کی زور سے آواز آئی. بادشاہ ایک دم سے دور ہو گیا. پر بس کی آواز میں وہ کسی کو سنائی نہیں دی. میں واسنا میں نڈھال ہو چکی تھی. من کر رہا تھا کہ وہ میرے اعضاء کو مسل ڈالے. اپنا لنڈ میری چوت میں گھسا ڈالے ... پر بس میں تو یہ سب ممکن نہیں تھا. میں دھیرے دھیرے جھک کر اس کی رانوں پر اپنا سر رکھ لیا. اسکی جپ کھلی ہوئی تھی، لنڈ میں سے ایک بھینی بھینی سے ویرے جیسی آروما آ رہی تھی. میرے منہ سے لنڈ بہت قریب تھا، میرا دل اسے اپنے چہرے میں لینے کو مچل اٹھا. میں نے اس کا لنڈ پینٹ میں سے کھینچ کر باہر نکال لیا اور اپنے منہ سے حوالے کر لیا. بادشاہ نے میری چنی میرے اوپر ڈال دی. اس کے لنڈ کے بس دو چار سٹكے ہی لیے تھے کہ بس کی لايٹے جل اٹھی تھی. بھوپال آ چکا تھا. میں نے جیسے سونے سے اٹھنے کا بہانہ بنایا اور اںگڑائی لینے لگی. مجھے حیرت نہیں ہوئی کہ سفر تو بس پل بھر کا ہی تھا! اتنی جلدی کیسے آ گیا بھوپال؟ رات کے نو بج چکے تھے.

راستے میں بس سٹےڈ آنے کے پہلے ہی ہم دونوں اتر گئے. راجہ مجھے کہہ رہا تھا کہ گھر یہاں سے پاس ہی ہے، ٹیکسی لے لیتے ہیں. میں یہ سن کر تڑپ گئی - سالا چدائی کی بات تو کرتا نہیں ہے، گھر بھیجنے کی بات کرتا ہے.

میں نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ گھر تو سویرے چلیں گے، ابھی تو کسی ہوٹل میں کھانا کر لیتے ہیں، اور کہیں رک جائیں گے. اس وقت گھر میں سبھی کو تکلیف ہوگی. انہیں کھانا بنانا پڑے گا، ٹھہرانے کی سیاست شروع ہو جائے گی، وغیرہ.

اسے بات سمجھ میں آ گئی. بادشاہ کو میں نے ہوٹل کا پتہ بتایا اور وہاں چلے آئے.

"تمہارے گھر والے کیا سوچیں گے بھلا ..."

"تمہیں کیا ... میں کوئی بھی بہانہ بنا دوں گی."

کمرے میں آتے ہی رنویر کا فون آ گیا اور پوچھنے لگا. میں نے اسے بتا دیا کہ راستے میں تو میری ہمت ہی نہیں ہوئی، اور ہم دونوں ہوٹل میں رک گئے ہیں.

"کس کا فون تھا ... رنویر کا ...؟"

"ہاں، میں نے بتا دیا ہے کہ ہم ایک ہوٹل میں الگ الگ کمرے میں رک گئے ہیں."

"تو ٹھیک ہے ..." بادشاہ نے اپنے کپڑے اتار کر تولیہ لپیٹ لیا تھا، میں نے بھی اپنے کپڑے اتارے اور اوپر تولیہ ڈال لیا.

"میں نہانے جا رہی ہوں ..."

"ٹھیک ہے میں بعد میں نہا لوں گا."

مجھے بہت غصہ آیا ... یوں تو ہوا نہیں کہ میرا تولیہ کھینچ کر مجھے ننگی کر دے اور باتھ روم میں گھس کر مجھے خوب دبایے ... چھي ... یہ تو لللو ہے. میں من مار کر باتھ روم میں گھس گئی اور تولیہ ایک طرف لٹکا دیا. اب میں ننگی تھی.

میں نے جھرنا کھول دیا اور ٹھنڈی ٹھنڈی فهارو کا لطف لینے لگی.

"کومل جی، کیا میں بھی آ جاؤں نہانے ...؟"

میں پھر سے كھيج اٹھی ... کیسا ہے یہ آدمی ... سالا ایک ننگی عورت کو دیکھ کر بھی هچكچا رہا ہے. میں نے اسے ہنس کر ترچھی نگاہوں سے دیکھا. وہ ننگا تھا ...

اس کا لنڈ تننايا ہوا تھا. میری ہنسی فوٹ پڑی.

"تو کیا ایسے ہی کھڑے رہو گے ... وہ بھی ایسی حالت میں ... دیکھو تو ذرا ..."

میں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ تھام لیا اور اپنی طرف کھینچ لیا. اس نے ایک گہری سانس لی اور اس نے میری پیٹھ پر اپنا جسم چپکا لیا. اس کا کھڑا لنڈ میرے چوتڑوں پر فسلنے لگا. میری ساسے تیز ہو گئی. میرے کسی گیلے بدن پر اس کے ہاتھ فسلنے لگے. میری بھیگی ہوئی چوچیاں اس نے دبا ڈالی. میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا. ہم دونوں جھرنے کی بوچھار میں بھیگنے لگے. اسکا لنڈ میری چوتڑوں کی درار کو چیر کر چھید تک پہنچ گیا تھا. میں اپنے آپ جھک کر اس کے لنڈ کو راستہ دینے لگی. لنڈ کا دباؤ چھید پر بڑھتا گیا اور ہاے رے! ایک فك کی آواز کے ساتھ اندر داخل ہو گیا. اس کا لنڈ جیسے میری گانڈ میں نہیں بلکہ جیسے میرے دل میں اتر گیا تھا. میں آند کے مارے تڑپ اٹھی.

آخر میری دل کی خواہش پوری ہوئی. ایک لطف بھری چیخ منہ سے نکل گئی.

اس نے لنڈ کو پھر سے باہر نکالا اور زور سے پھر ٹھوس دیا. میرے بھیگے ہوئے بدن میں آگ بھر گئی. اس کے ہاتھوں نے میرے ابھاروں کو جور جور سے ہلانا اور مسلنا شروع کر دیا تھا. اس کا ہاتھ آگے سے بڑھ کر چوت تک آ گیا تھا اور اس کی دو اگليا میری چوت میں اتر گئی تھی. میں نے اپنی دونوں ٹاںگیں فیلا لی تھی.

اس شاٹ تیز ہونے لگے تھے. اتواسنا سے بھری میں بیچاری جلد ہی جھڑ گئی.

اسکا ویرے بھی میری ٹائیٹ گانڈ میں داخل ہونے کی وجہ سے جلدی نکل گیا تھا.

ہم غسل کر کے باہر آ گئے تھے. شوہر بیوی کی طرح ہم نے ایک دوسرے کو پیار کیا اور رات کھانے کے لئے نیچے روانگی کر گئے.

تبھی رنویر کا فون آیا، "کیسی ہو. بات بنی یا نہیں ...؟"

"نہیں جانو، وہ تو سو گیا ہے، میں بھی کھانا کھا کر سونے جا رہی ہوں!"

"تم تو بددھو ہو، پٹے پٹايے کو نہیں پٹا سکتی ہو ...؟"

"ارے وہ تو مجھے بھابھی ہی کہتا رہا ... لفٹ ہی نہیں مار رہا ہے، آخر تمہارا سچا دوست جو ٹھہرا!"

"دھتت، ایک بار اور کوشش کرنا ابھی ... دیکھو چد کر ہی آنا ..."

"ارے ہاں میرے جانو، کوشش تو کر رہی ہوں نا ... گڈنايٹ"

میں مردوں کی فطرت پہچانتے تھی، سو میں نے چدائی کی بات کو خفیہ رکھنا ہی بہتر سمجھا. راجہ میری باتوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا. ہم دونوں کھانا کھا کر سونے کے لئے کمرے میں آ گئے تھے. میری تو یہ سفر ہنیمون جیسی تھی، ماہ بعد، میں چدنے والی تھی. گانڈ تو چدا ہی چکی تھی. میں نے فوری طور پر ہلکے کپڑے پہنے اور بستر پر کود گئی اور ٹاںگیں پسار کر لیٹ گئی.

"آؤ نا ... لیٹ جاؤ ..." اس کا ہاتھ کھینچ کر میں نے اسے بھی اپنے پاس لیٹا دیا.

"راجا، گھر پر تم نے خوب تڑپايا ہے ... بڑے شریف بن کر آتے تھے!"

"آپ نے تو بھی بہت شرافت دکھائی ... بھیا بھیا کہہ کر میرے لنڈ کو ہی جھکا دیتی تھی!"

"تو اور کیا کہتی، سےيا ... سےيا کہتی ... باہر تو بھیا ہی ٹھیک رہتا ہے."

میں اس کے اوپر چڑھ گئی اور اس کی رانوں پر آ گئی.

"یہ دیکھ، سالا اب کیسا کڑک رہا ہے ... نكالو میں بھی کیا اپنی فددي ..." میں نے آنکھ ماری.

"اے ہٹ بیشرم ... ایسا مت دھن ..." راجہ میری باتوں سے جھینپ گیا.

"ارے جا رے ... میری پیاری سی چوت دیکھ کر تیرا لنڈ دیکھ تو کیسا جور مار رہا ہے."

"تیری زبان سن کر میرا لنڈ تو اور فول گیا ہے ..."

"تو یہ لے ڈال دے تیرا لنڈ میری گیلی مياني میں ..."

میں نے اپنی چوت کھول کر اس کا لال سپاڑا اپنی چوت میں سما دیا. ایک سسکاری کے ساتھ میں اس سے لپٹ پڑی. مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ کسی غیر مرد کا لنڈ میری پیاسی چوت میں اتر رہا ہے. میں نے اپنی چوت کا اور زور لگایا اور اسے مکمل سما لیا. اس کا فولا ہوا بے حد کڑک لؤڑا میری چوت کے اندر - باہر ہونے لگا تھا. میں آہیں بھر بھر کر اپنی چوت کو دبا دبا کر لنڈ لے رہی تھی. مجھ میں بے پناہ واسنا چڑھی جا رہی تھی. اتنی کہ میں بےسدھ سی ہو گئی. جانے کتنی دیر تک میں اس سے چدتي رہی. جیسے ہی میرا رس نکلا، میری تندرا ٹوٹی. میں جھڑ رہی تھی، بادشاہ بھی کچھ ہی دیر میں جھڑ گیا.

میرا دل ہلکا ہو گیا تھا. میں چدنے سے بہت ہی پرفللت تھی. کچھ ہی دیر میں میری پلکیں بھاری ہونے لگی اور میں گہری ندرا میں سو گئی. اچانک رات کو جیسے ہی میری گانڈ میں لنڈ اترا، میری نیند کھل گئی. بادشاہ پھر سے میری گانڈ سے چپکا ہوا تھا. میں پاؤں فیلا کر الٹی لیٹ گئی. وو میری پیٹھ چڑھ کر میری گانڈ مارنے لگا. میں لیٹی لیٹی سسکاریاں بھرتی رہی. اسکا ویرے نکل کر میری گانڈ میں بھر گیا. ہم پھر سے لیٹ گئے. گانڈ چدنے سے میری چوت میں پھر سے جاگ ہو گئی تھی. میں نے دیکھا تو بادشاہ جاگ رہا تھا. میں نے اسے اپنے اوپر کھینچ لیا اور میں ایک بار پھر سے بادشاہ کے نیچے دب گئی. اسکا لنڈ میری چوت کو مارتا رہا. میری چوت کی پیاس بجھاتا رہا. پھر ہم دونوں سکھلت ہو گئے. ایک بار پھر سے نیند کا سلطنت تھا. جیسے ہی میری آنکھ کھلی صبح کے نو بج رہے تھے.

"میں چائے مگاتا ہوں، جتنے تم فریش ہو لو!"

ناشتہ کرنے کے بعد بادشاہ بولا، "اب چلو تمہیں گھر پہنچا دوں ..."

پر گھر کسے جانا تھا ... یہ تو سب ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی تھی.

"کیا چلو چلو کر رہے ہو؟ ... ایک دور اور ہو جائے!"

راجہ کی آنکھیں چمک اٹھی ... تاخیر کس بات کی تھی ... وہ لپک کر میرے اوپر چڑھ گیا.

میرے چوت کے كپاٹ پھر سے کھل گئے تھے. بھچابھچ چدائی ہونے لگی تھی. درمیان میں دو بار رنویر کا فون بھی آیا تھا. چدنے کے بعد میں نے رنویر کو فون لگایا.

"کیا رہا جانو، چدی یا نہیں ...؟"

"ارے ابھی تو وہ اٹھا ہے ... اب دیکھو پھر سے کوشش کروں گی ..."

تین دنوں تک میں اس سے جی بھر کر چدی، چوت کی ساری پیاس بجھا لی. پھر جانے کا وقت بھی آیا. راجہ کو ابھی تک سمجھ نہیں آیا تھا کہ یہاں تین تک ہم دونوں صرف چدائی ہی کرتے رہے ... میں اپنے گھر تو گئی ہی نہیں.

"پر رنویر کو پتہ چلے گا تو ...؟"

"مجھے رنویر کو سمجھانا آتا ہے!"

گھر آتے ہی رنویر مجھ پر بہت ناراض ہوا. تین دنوں میں تم بادشاہ کو نہیں پٹا سکی.

"کیا کروں جانو، وہ تو تمہارا سچا دوست ہے نا ... ہاتھ تک نہیں لگایا!"

"اچھا تو وہ چکنا اكت کیسا رہے گا ...؟"

"یار اسے تو میں نہیں چھوڑنے والی، چکنا بھی ہے ... اس کے اوپر ہی چڑھ جاوںگی ..."

روير نے مجھے پھر پیار سے دیکھا اور میرے سینے کو سہلا دیا.

"سی السلام السلام سييييي ... ایسے مت کرو نا ... پھر چدنے کی خواہش ہو جاتی ہے."

"اوہ ساری ... جانو ... لو وہ اكت آ گیا!"

اكت کو فسانا کوئی مشکل کام نہیں تھا، پر رنویر کے سامنے یہ سب کیسے ہوگا .... اسے بھی دھیرے سے ڈورے ڈال کر میں نے اپنے جال میں فسا لیا. پھر دوسرا پےترا آزماےا. سیکورٹی کے لحاظ سے میں نے دیکھا کہ اكت کا کمرہ ہی اچھا تھا. اس کے کمرے میں جا کر چد آئی اور رنویر کو پتہ بھی نہیں چل پایا.

مجھے لگا کہ جیسے میں دھیرے دھیرے رڈي بنتی جا رہی ہوں ... میرے شوہر دیو اپنے دوستوں کو لے کر آ جاتے تھے اور ایک کے بعد ایک نئے لنڈ ملتے ہی جا رہے تھے ... اور میں کوئی نا کوئی پےترا بدل کر چد آتی تھی ... ہے نا یہ غلط بات!

پتورتا ہونا بیوی کا پہلا فرض ہے. پر آپ جانتے ہیں نا چور تو وہ ہی ہوتا ہے جو چوری کرتا ہوا پکڑا جائے ... میں ابھی تک تو پتورتا ہی ہوں ... پر چدنے سے پتورتا ہونے کا کیا تعلق ہے؟ یہ موضوع تو بالکل الگ ہے. میں اپنے شوہر کو سچے دل سے چاہتی ہوں. انہیں چاهنا چھوڑ دوں گی تو میرے لیے مردوں کا انتظام کون کرے گا بھلا؟


0 comments:

Post a Comment

 

© 2011 Sexy Urdu And Hindi Font Stories - Designed by Mukund | ToS | Privacy Policy | Sitemap

About Us | Contact Us | Write For Us