نشیلی چوت کا رس

بات ان دنوں کی ہے جب میں ہائی سکول کی بورڈ کا امتحان دے کر فری تھا اور نتائج آنے میں تین ماہ کا وقت تھا. یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہر لڑکا اپنے بڑھے ہوئے لنڈ کے فی اكارشت رہتا ہے، ساتھ - ساتھ بڑھتی ہوئی کالی - کالی گھگھرالي جھاٹے اس کا دل جلدی سے کسی نشیلی چوت کا رس پان کرنے کو حوصلہ افزائی کرتی ہیں. میں نے فری ٹائم کو صحیح استعمال کرنے کے لئے ایک انگریزی سپیکنگ کورس جوان کر لیا. ہمارے گھر سے تھوڑی دور پر ایک نیا انگریزی کوچنگ سینٹر کھلا تھا جہاں میں اپنا اےڈميشن لینے پہنچ گیا. میرے لؤڑے کی قسمت اچھی تھی وہاں جاتے ہی میرا سامنا ایک کمسن، الہڑ، مدمست، جوان، عورت سے ہوا جو پتہ چلا کہ وہاں کی ٹیچر ہے. اس گورے - گورے تن بدن کو دیکھتے ہی میرا تو لؤڑا چڈڈھي میں ہی اچكنے لگا. اس كھشبودار سانسوں نے من میں طوفان پیدا کر دیا تھا. من تو اس کے فورا چودنے کو کر رہا تھا پر کیا کرتا وہاں تو پڑھنے گیا تھا.

اےڈميشن دیتے ہوئے وہ بھی مجھے آنکھوں ہی آنکھوں میں تول رہی تھی. وہ 27 سال کی بھرے بدن والی میڈم تھی. شادی - شدہ، اس کی دونوں چوچیاں آدھا -2 کلو کی تھی اور اس کے گدیدار موٹے چوتڑ (گاںڈ) ابھار لیے سنگ مر مر کی مورت سے تراشے ہوئے ہلتے ایسے لگتے تھے جیسے کہہ رہے ہوں - آجا بادشاہ اس گاںڈ کو بجا جا!

میں نے اےڈميشن لیکر پوچھا - کتنے بجے آنا ہے میڈم؟

وہ مسکرا کر بولی - صبح سات بجے آنا.

"ساتھ کیا کرنا ہے؟"

"وہ بولی ایک كوپي بس."

میں گھر واپس آ گیا پر ساری رات صبح ہونے کے انتظار میں سو نہ سکا. رات بھر میڈم کی حسین مسکراہٹ اور چہرہ سامنے تھا. میں بار - بار ان کے بلاز میں قید ان دو کبوتروں کا خیال کر رہا تھا جو باہر آنے کو بیتاب تھے. ان کی چوت کیسی ہوگی؟ گلابی چوت پہ سیاہ سگھاڑا ہوگا، ان کی چوت کا لہسن موٹا ہوگا یا پتلا، ملائم میٹھا یا نمکین، کتنا نشہ ہوگا ان کے چوت کے رس میں؟ ان کی بر کی پھاكے گلاب کی پتیوں سی پھیلا دوں تو کیا ہو؟ یہ تصور اور مدہوش کر رہی تھی جس سے میرے لنڈ پھول کر لمبا اور موٹا ہو گیا تھا اور میری چڈڈھي میں اس نے گیلا پانی چھوڑ دیا.

اگلے دن صبح، جلدی سے نہا کر میں انگریزی کی کوچنگ میں وقت سے پہنچ گیا. اس کلاس میں اور بھی کچھ حسین لڑکیاں تھیں. کچھ خوبصورت شادی - شدہ عورتیں بھی تھی جو ہائی کلاس سوسائٹی میں اپنا اثر و رسوخ جمانے کے لیے انگریزی سیکھنا چاہ رہی تھیں تاکہ ہائی کلاس کی رگينيو کا مزا اٹھایا جا سکے. میں پیچھے کی سیٹ پر بیٹھ گیا. تھوڑی دیر میں میڈم وہاں آئی اور گڈ مورنںگ کے ساتھ مجھ پر نظر پڑتے ہی بولی - تم آگے آ کر بیٹھو.

ان کے کہنے پر میں آگے کی سیٹ پر بیٹھ گیا. وہ سب کو اپنا تعارف ہوئے بولی - ہاے میں نشا ہوں. اب آپ لوگ اپنا تعارف دیجیے. ہم سب نے اپنا - اپنا تعارف کرایا. پھر وہ بلیک بورڈ کی طرف مڑ کر لکھنے لگی. جیسے ہی وہ مڑی، ان کی گاںڈ میرے سامنے تھی اور دل پھر ان کی گاںڈ مارنے کے خیال میں کھو گیا. کیا کروں جوانی 18 سال کی کہاں خاموش رہتی.

وہ بہت خوبصورت ہلکے رنگ کی ساڑھی پہنے تھی. گلابی بلاز کے نیچے ان کی کالی برا صاف دکھ رہی تھی. ساڑھی کے پلو سے انکی چوچی کا بارڈر زبان پر پانی لا رہا تھا، لالچ دل میں جگا رہا تھا. دونوں چوچیوں کے بیچ کی گہری لائن برا کے اوپر سے لنڈ کو مستی دلا رہی تھی. وہ مڑ کر واپس کلاس کو بولنے لگی گرامر کے بارے میں اور میرے بالکل پاس چلی آئی. میں بیٹھا تھا اور وہ میرے اتنے قریب کھڑی تھی کہ ان کا کھلا پیٹ والا حصہ میرے منہ کے پاس آ چکا تھا جس سے ان کی گول - گول گہری ناف کی مہک میرے نتھنو میں میٹھا زہر گھول رہی تھی. پھر ان کا پین ہاتھ سے گر کر میرے سامنے ٹپک گیا جسے لینے وہ نیچے جھکی تو دونوں چوچیاں میرے منہ کے سامنے پاس گئے. اس دن کلاس ایسے ہی چلتا رہا. پھر جب کلاس ختم ہوا تو جب سب چلنے لگے تو میڈم نے مجھے رکنے کو کہا. میں اپنی کرسی پر بیٹھا رہا.

سب کے چلے جانے کے بعد میڈم میرے پاس آئی اور بولی - هےڈسم لگ رہے ہو!

میں نے کہا - تھینک یو!

"تم ابھی کیا کرتے ہو؟"

میں بولا - ابھی ہائی سکول کا امتحان دیا ہے، اب میں فری ہوں.

میڈم بولی - مطلب اب تم بالغ ہو گئے ہو.

یس میڈم، میں بولا.

هووووم ...... وہ کچھ سوچ کر بولی - تمہارا كےلا تو کافی کافی بڑا ہے!

كےلا؟؟؟ میں سمجھ تو گیا تھا کہ میڈم میرے لنڈ کی طرف اشارہ کر رہی ہیں پر میں اںجان بنا رہا.

میں نے پوچھا - کس کیلے کی بات کر رہی ہیں آپ؟

ارے! اب اتنے اںجان مت بنو میرے بادشاہ، تمہارا لؤڑا جو کافی بڑا ہے اور جو اس پینٹ کے نیچے سے پھول کر باہر ہوا کھانے کو بے تاب ہے. شاید اس نے ابھی تک گجھيا (چوت) کا مزہ نہیں چکھا. اصل میں میں کلاس جلدی پہنچنے کے چکر میں نہا کر پتلون کے نیچے انڈرویئر پہننا بھول گیا تھا جس سے موٹا لؤڑا تن کر پیںٹ میں اپنی چھاپ دکھا رہا تھا.

میڈم کو فری اور فرےك ہوتا دیکھ کر میں نے بھی کہہ دیا - ہاں میڈم، ابھی تک کسی کی چوت کا مزہ نہیں چکھا ہے.

وو بولی - آج کی صبح چھ بجے میرے گھر آ سکتے ہو؟ میں اکیلی رہتی ہوں. دراصل میرے شوہر نیوی میں ہیں اور ہمارے کوئی اولاد نہیں ہے. تم آ جاؤ گے تو مجھے کمپنی ہو گی.

میں نے فورا حامی بھر دی. میں جانتا تو تھا کہ میڈم کو میری کمپنی کیوں چاہیے تھی. ان کو اپنی بر کی کھجلی مٹاني تھی اور پھر جب شوہر نیوی میں گاںڈ مرايے تو بیوی دن بھر جب ٹيچگ سے لوٹ کر آئے تو چوت چودنے کو کوئی لؤڑا تو چاہیے ہی. اس میں کچھ غلط نہیں ہے. ہر عورت کی، ہر لونڈیا کی چوت میں گرمی چڑھتي ہے اور اس کی چوت کی آگ صرف اور صرف لنڈ ہی ٹھنڈا کر سکتا ہے.

ساری رات میڈم کا خیال کر میں سو نہ سکا. صبح گھڑی میں الارم لگا دیا 5 بجے کا. ممی بھی صبح الارم کی آواز سے اٹھ گئی اور بولی - اتنی صبح کہاں جا رہے ہو؟؟

میں نے کہا - صبح روز اب میں جلدی اٹھ کر جوگگ کرنے جاںگا اور پھر وہیں سے کلاس اٹینڈ کر پیچھے اگا.

اب ان سے کیا کہتا کہ میڈم کی چوت کی کھجلی دور کرنے جا رہا ہوں. صبح چائے پی کر میں فورا ٹیکسی کر میڈم کے پتے پر كوپي لئے پہنچ گیا. ڈوربےل بجائی تو تھوڑی دیر بعد میڈم کالی نائیٹی پہنے مسکرا کر دروازہ کھولتی نظر آئی ان نائیٹی کے دو بٹن اوپر کے کھلے تھے اور برا نہیں پہنے ہونے کے کارن دونوں چوچیاں مجھے صاف دکھائی دے رہی تھیں. نیچے پیٹیکوٹ بھی نہیں تھا کیونکہ انہوں نے میرا ہاتھ کمر پر رکھ مجھے اندر بلایا جس سے ان کا بدن میرے ہاتھ میں آ گیا تھا.

سامنے کھلا ہوا سینہ میرے دل کی دھڑکن بڑھا رہا تھا. وہ مسکرا کر بولی - اب ایسے ہی کھڑے - کھڑے میری صورت دیکھتے رہو گے یا مجھے اپنی باہوں میں اٹھا کر بستر پہ بھی لے چلوگے. میری جوانی کب سے موٹے لنڈ کی آگ میں جل رہی ہے، میری جوانی کے مزے نہیں لوٹوگے؟؟؟

میں نے فوری طور كوپي پاس پڑی میز پر پھینک دی اور میڈم کو جھٹ سے اپنی باہوں میں اٹھا لیا. ان کے کھلے بال میرے ہاتھ پر تھے اور انہوں نے میرے ہونٹوں کو اپنے لبوں میں قید کر لیا. ان کا بیڈروم سامنے ہی تھا. موسم تھوڑا گرم تھا اس لیے میں ان کو پہلے باتھ روم میں لے آیا جہاں ان کو تھوڑا نهلا کر مالش کر گرم کر سکوں.

میں نے میڈم کو باتھ روم میں کھڑا کر دیا اور پھر ان کی کالی نائیٹی کے اوپر سے مکمل ماںسل بدن دبایا پھر سہلایا. ان کے ہاتھ اوپر کر ان کی کالی نائیٹی دھیرے سے اتار دی. اب وہ پوری ننگی میرے سامنے کھڑی تھی. دودھيا بدن گوری - گوری - موٹی چوچیاں اور ہلکے سیاہ گھگھرالے بالوں کے درمیان گلابی ملائم چوت. میں نے شور شروع کر دیا. پانی اوپر سے نیچے ہر حصہ کو بھگو رہا تھا. میں نے ان کو چومنا چاٹنا شروع کر دیا. ہونٹوں سے ہونٹ پھر گال سب پر زبان پھیر کر مزا دیتا گیا. دونوں چوچیاں بار بار دبا کر نپپلو کو مںہ میں بھر لیا. ان گلابی چچوك موٹے اور بہت نرم تھے. زبان نکال کر گول - گول نپل پر گھما کر چاٹ کر پیا. وہ آ گیا بولی - اور پیو! یہ نپل کب سے ترس رہے تھے کہ کوئی ان کو پیے.

میں نے کس کر چوچی مردن کیا، دبا دبا کر نپپلو کو اكےر کر دونوں نپپلو پر زبان سے خوب کھجلی کی. میڈم بھی اپنی زبان نکال کر میرے زبان کے ساتھ اپنے نپپلو چاٹ رہی تھی. ان کی چوچیاں پھول کر بڑا ہو گیا تھا اور میں نیچے ان کی ناف پر آ گیا تھا. گول ناف کی گہرائی ناپنے میں 2 منٹ لگے. اس سے پہلے چوچیوں کا مساج اور نپپلو کو چوس کر دس منٹ تک ان کو پیار کے نشے میں ڈباتا چلا گیا. اس عمل سے میرا لؤڑا بھی ناگراج کی طرح پھفكارتا ہوا کھڑا ہو کر سات انچ کا ہو چکا تھا جس پر میڈم کا ہاتھ پہنچ گیا تھا. میں نے دھیرے سے میڈم کو باتھ روم کے فرش پر لٹايا تاکہ ان کی چوت کھل کر میرے سامنے آ سکے اور میں ان کی گلابی گجھيا میں انگلی ڈال سکوں.

میں ان کی چوت کا رس پینے کے ارادے سے نیچے گیا. ان کی جھانٹوں پر پڑی پانی کی بودو نے مجھے ان کے جھانٹوں پر چاندی کی طرح چمکتی بودو کو پینے کی چاہ جگا دی. میں ان کی کالی، ملائم گھگھرالي جھانٹوں کو اپنے ہوںٹھوں میں قید کر اپنے ہوںٹوں سے پینے لگا. ان کی جب جھاںٹیں کھںچتی تو وہ اههههههههه ...... اوووهههه ... ههها ....... ज्जज्जजाआअन्न्नन्न .. سسسسسسس ... کرتی جس سے میرا لنڈ اور کڑک ہو جاتا.

ان کی جھانٹوں سے پانی صاف کرنے کے بعد میں نے دونوں انگلیوں سے ان کی چوت کی گہرائی کو ناپا. مطلب دونوں انگلیاں اندر گلابی چھید میں ڈال دی گہرائی تک. پھر زبان پاس لا کر ان کے چوت کا سگھاڑا اپنے منہ میں قید کر لیا.

تقریبا دس منٹ تک ان نشیلی چوت کا رس اپنی زبان سے پیتا رہا اور ان کی گرم چوت میں اپنی زبان چلاتا رہا. اوپر سے نیچے، پھر نیچے سے اوپر اور پھر زبان کو سخت کر اندر باہر بھی. زبان سے چوت رس چاٹتے وقت میں نے ایک انگلی نیچے خوبصورت سے نظر رہے گاںڈ کے چھید پر لگا دی. ان کو تیار کر میں نے اپنا اںڈرویر اتارا جس میڈم باتھ روم کے فرش پر اٹھ کر میرے اوپر میری طرف گاںڈ کر 69 کی پوزیشن میں لیٹ گئی اور میرا لنڈ اپنے مںہ میں ڈال لیا.

میں میڈم کی چوت میں نیچے سے پیچھے سے زبان ڈال کر ان کا رس چاٹے جا رہا تھا اور میڈم کو میرا گلابی سپاڑا بہت مزا دے رہا تھا. وہ بچوں کی طرح اسے چوسے جا رہی تھی. کیونکہ ان کو لنڈ بہت دنوں بعد نصیب ہوا تھا. میرا تنا لنڈ ان کو بہت مزا دے رہا تھا. وہ 5 منٹ تک میرا لؤڑا اپنے ہوںٹھوں میں قید کر چوستی رہی. زبان سے لنڈ کے سپاڑے کو چاٹ - چاٹ کر سرخ کر دیا تھا اور لنڈ تن کر راڈ کی طرح مکمل کھڑا ہو گیا تھا پر میڈم چھوڑ ہی نہیں رہی تھی.

میںنے بولا - میڈم، میں جھڑنے والا ہوں!

تو انہوں نے مجھے کھڑا کر دیا اور خود بھی میرے اوپر سے ہٹ گیا، بولی - آؤ بادشاہ، میری زبان پر گرا دو.

وو میرے لنڈ کے پاس منہ کھول کر زبان نکال کر بیٹھ گئیں. میں نے اپنے ہاتھ سے ہلا کر جلدی سے اپنا سارا گرم گرم شہد ان کی زبان پہ گرایا جسے انہوں نے اپنی آنکھیں بند کر جنت کا مزا لیا. وہ میرے گرم ویرے کی آخری بوند تک چاٹ گئی. پھر انہوں نے اپنا منہ دھویا اور مجھے بولی - اب مجھ کو بیڈروم میں لے چلو، راجہ.

میں بھی ان کی چوت چودنے کو بے تاب تھا.

میں نے ان کو اٹھا لیا اؤر بیڈ پر چت لٹا دیا. ان دونوں گوری ٹانگوں کو خوب پھیلا دیا تاکہ ان کی گلابی چوت میرے سامنے کھل جائے اور مجھے ان کی چوت کو چاٹنے میں ذرا بھی دقت نہ ہو. وہ پھر سے میرے لنڈ کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر آگے پیچھے ہلانے لگی. ان کے یہ کرنے سے میرا لنڈ پھر سے کھڑا ہونے لگا. میں نے ان کی نشیلی چوت کو چاٹ کر اپنے تھوک سے صاف کیا. ویسے ان کی چوت بہت مکھن سی ملائم اور ململ سی چکنی تھی. وہ گرم - گرم ملائی سے بھرپور چوت مجھے اب جنت سی لگ رہی تھی جس کو اب چودنا بہت ضروری ہو گیا تھا. میرے لپ - لپ کر ان کی چوت کو چاٹنے سے وہ اپنے منہ سے سی ... سی ... اوووو ... اههههه کر رہی تھی، بولی - میرے راجا، جلدی سے اپنا سات انچ کا شعر میری محبت کی غار میں گھسا دو ، جلدی سے اس کی چوت کی کھجلی شاںت کرو. بہت تڑپ رہی ہوں.

میں نے جلدی سے ان کی گوری ماںسل جاںگھوں کو دور دور کیا اور لؤڑا پکڑ کر اپنا سپاڑا چوت کے منہ پر ٹکا کر سہلایا. پھر ایک دھیرے سے زور لگایا جس سے لنڈ كھچ کی آواز سے اندر گرم گرم چوت میں اندر تک سما گیا. وہ آنکھیں بند کر مست ہونے لگی.

میں بولا - نشا تم بہت مست ہو.

وہ مسکرا دی. میں نے اپنے لنڈ کی رفتار بڑھا دی. لنڈ جلدی جلدی اندر - باہر چلنے لگا. لنڈ پورے زور سے اندر باہر آ جا رہا تھا جس سے نشا کی چوچیاں بھی ہل رہی تھیں. دونوں بوبس کو میں نے ہاتھ میں بھر کر مسلنا شروع کر دیا تھا اور ان کے نپل بھی اپنے ہوںٹھوں میں چوسنے لگا. نشا کی جوانی لوٹ کر دس منٹ تک گرم لنڈ راڈ سا اسکی بر کو پھاڑتا رہا. پھر میں نے اس کی چوت سے لنڈ باہر نکالا اور اپنی گرم منی اسکی چوت کے اوپر اور ناف میں ڈال دیا.

اب وہ خاموش ہو چکی تھی اور میری پہلے پیار کی کلاس ایک گھنٹے میں ختم ہوئی. جنس کی اس کلاس میں مجھ کو پورا مزا ملا.


0 comments:

Post a Comment

 

© 2011 Sexy Urdu And Hindi Font Stories - Designed by Mukund | ToS | Privacy Policy | Sitemap

About Us | Contact Us | Write For Us