بے اولاد جوڑا

ثمینہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک خوب صورت ذہین اور مذہب سے لگا? رکھنے والی لڑکی تھی یونیورسٹی میں اس کے دیگر کلاس فیلوکی طرح عابد نے اس کے ساتھ میل جول بڑھانے کی کوشش کی لیکن سب کو ناکامی ہوئی کلاس روم میں ہیلو ہائے سے زیادہ کوئی بات نہ بن سکی جبکہ کلاس روم سے باہر تو ثمینہ کسی کی طرف دیکھتی بھی نہ تھی عابد تو جیسے اس کا دیوانہ ہوگیا تھا اس نے اپنے گھروالوں کو بھیج کر اس کا رشتہ مانگ لیا ثمینہ کے گھر والوں نے شہر کے امیر ترین گھرانے سے رشتہ آنے کو خود پر خدا کا کرم سمجھا اور ہاں کردی اور یوں ان کی شادی ہوگئی شادی کے وقت اس کی عمر 22 سال جبکہ عابد کی عمر 27 سال تھی ثمینہ کا چہرہ معصوم‘ قد 5 فٹ 7 انچ‘ گھنے سیاہ بال‘ برا?ن آنکھیں متوازن فگر‘ پتلا جسم گو کہ ہر لحاظ سے وہ بیوٹی کوئین تھی شادی کے بعد دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے گھر میں بھی وہ سر سے دوپٹہ نہ اتارتی تھی جبکہ گھر سے باہر تو وہ بڑی چادر لے کر جاتی تھی عابد کی ہائی سوسائٹی بھی اس کے طور طریقے نہ بدل سکے تھے عابد اس کو اپنے ساتھ ہائی کلاس فیملی فنکشنز میں لے جاتا لیکن کسی طریقہ سے بھی اس کو نہ بدل سکا جس کا اسے برا بھی لگتا لیکن اس بات پر وہ خوش بھی ہوتا کہ اس کی بیوی صرف اس کے ساتھ ہی وفادار تھی آہستہ آہستہ اس نے ثمینہ کو فنکشنز میں لے جانا بند کردیا اب ثمینہ صرف اس کے ساتھ اس کے بہت ہی اچھے اور بچپن کے دوست رانا شوکت کے گھر جاتی تھی جس کی بیوی نسیم کے ساتھ اس کی دوستی ہوگئی تھی ان لوگوں کا گھر اسی علاقے میں تھا وہ نسیم کو بہن جبکہ اس کے شوہر شوکت کو بھائی کی طرح سمجھتی تھی جبکہ ان کی طرف سے بھی اسے اسی طرح کے جذبات ملتے تھے ثمینہ کو عابد کے تمام دوستوں میں صرف شوکت ہی اچھا اور سلجھا ہوا لگا تھا جس کی وجہ سے ان لوگوں کے آپس میں فیملی تعلقات بن گئے
شادی کو پانچ سال کا عرصہ گزر گیا تھا لیکن ان کے ہاں اولاد نہیں ہوئی تھی جس پر ان لوگوں نے شہر کی سب سے مشہور سے رابطہ کیاجس نے بتایا کہ ثمینہ تو بالکل ٹھیک ہے اور حاملہ ہوسکتی ہے لیکن عابد کے جنسی جرثومے کسی وجہ سے اتنے کمزور ہوگئے ہیں کہ وہ حمل ٹھہرانے کا باعث نہیں بن سکتے ‘ ڈاکٹروں کی رپورٹس پر پہلے تو ثمینہ کو یقین نہیں ہوا کیوں پانچ سالہ ازواجی زندگی میں اس نے کبھی بھی محسوس نہیں کیا کہ اس میں کوئی کمی ہے ثمینہ نے جب ڈاکٹر سے کہا کہ وہ تو اپنے شوہر سے بالکل مطمیئن ہے پھر یہ رپورٹ کیسے آگئی تو ڈاکٹر نے کہا کہ عابد جنسی ضروریات پوری کرنے کے لائق ہے لیکن صرف اس کے جرثومے کمزور ہیں وہ کسی بھی عورت کے ساتھ سیکس کرنے کے قابل ہے ڈاکٹر کی رپورٹ پر عابد بھی بہت پریشان ہوگیا ان لوگوں نے پھر شہر کے کئی اور بھی ڈاکٹروں سے مشورہ کیا لیکن جواب وہی آخر تھک ہار کروہ پہلے والی ڈاکٹر کے پاس آئے
ڈاکٹر صاحبہ ہمیں ہر صورت اولاد چاہئے چاہے اس کے لئے کچھ بھی کرنا پڑے اس کا کوئی تو علاج ہوگا۔ثمینہ نے عابد کی طرف ایک بار دیکھتے ہوئے ڈاکٹر سے کہا
اس کے لئے کوئی بھی علاج کارآمد نہیں ہے‘ ڈاکٹرنے کہا
لیکن ہمیں تو اولاد چاہئے ‘ عابد نے کہا
ڈاکٹر۔ آپ کسی بچے کوگود لے لیں
عابد۔ ڈاکٹر آپ سمجھتی کیوں نہیں ہمیں اپنی اولاد چاہئے کسی کو گود لے کر ہم اپنے گھر والوں کو کیا بتائیں گے‘
اس کی بات سن کر ڈاکٹر کچھ دیر سوچ میں پڑی رہی پھر کچھ سیکنڈ بعد بولی
ڈاکٹر۔ ہاں ایک طریقہ ہے
ثمینہ۔ کیا طریقہ ہے ہم سب کچھ کرسکتے ہیں اولاد کے لئے
ڈاکٹر۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ کوئی شخص آپ کو اپنے جرثوموں کا عطیہ دے وہ جرثومے آپ اپنے مادہ رحم میں رکھوالیں تو آپ حاملہ ہوسکتی ہیں
ثمینہ۔ کیا مطلب آپ کا
ڈاکٹر۔ ہاں مجھے معلوم ہے کہ میں کیا کہہ رہی ہوںاس کو میڈیکل سائنس میں آرٹیفشل ان سی مینیشن یعنی مصنوعی طریقہ حمل کہتے ہیں اس طریقہ سے کسی دوسرے مرد کے جرثومے لے کر عورت کے مادہ رحم میں مصنوعی طریقہ سے رکھ دیئے جاتے ہیں جس سے اس کو حمل ٹھہر جاتا ہے
ثمینہ۔ ڈاکٹر صاحب یہ تو غیر اسلامی فعل ہے ایسا کرنے کے بارے میں سوچنا بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر صاحب آپ یہ بتائیں کہ اس طریقہ سے حمل ٹھہرنے کے کتنے فی صد چانسز ہیں ‘ عابد نے ثمینہ کی بات کاٹتے ہوئے ڈاکٹر سے پوچھا
85 فی صد تک چانسز ہیں‘ ڈاکٹر نے جواب دیا
عابد‘ ٹھیک ہے آپ علاج شروع کریںہمیں کسی بھی طریقہ سے اولاد چاہئے لیکن اس بات کو راز ہی رہنا چاہئے
ڈاکٹر۔ آپ اطمینان رکھیں کسی کو اس کی خبر تک نہیں ہوگی
عابد۔ تھینک یو ڈاکٹر
دونوں باتیں کررہے تھے جبکہ ثمینہ حیرانگی سے ان کو دونوں کو دیکھ رہی تھی
ڈاکٹر۔آپ کسی عزیز یا دوست سے جرثومے عطیہ لینے کا بندوبست کریں انشائ اللہ بہتری ہوگی
عابد۔ ہم کہاں سے کرسکتے ہیں اس کا بندوبست بھی آپ کو ہی کرنا ہے
ڈاکٹر۔ سوری عابد یہ کام آپ کو ہی کرنا ہے میں کوشش کرسکتی ہوں لیکن آپ سمجھیں کہ آپ کو ہی یہ کام کرنا ہے
ثمینہ کو بالکل بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا بات ہورہی ہے وہ اس بات پر ابھی تک شاکڈ تھی کہ اس کے ساتھ کیا ہونے جارہا ہے وہ کبھی عابد اور کبھی ڈاکٹر کی طرف دیکھتی
ڈاکٹر ( ثمینہ کی طرف دیکھتے ہوئے) میں آپ کو میڈیسن لکھ دیتی ہوں آپ یوز کریں اور پندرہ دن تک جرثوموں کا بندوبست کرلیں میں بھی ٹرائی کرتی ہوں
عابد۔ ٹھیک ہے تھینک یو ڈاکٹر اینڈ آئی ول ریکویسٹ یو اگین تھیٹ پلیز کیپ سیکرٹ دس
ڈاکٹر۔ڈونٹ وری مائی ڈیئر
پھر دونوں نے ڈاکٹر سے اجازت لی اور گھر روانہ ہوگئے راستے سے دوائی لی اور پھر گھر پہنچ گئے بیڈ پر رات گئے تک دونوں میں جائز اور ناجائز پر بحث ہوتی رہی لیکن آخر عابد جیت گیا اب باری تھی کہ جرثومے دے گا کون کافی بحث کے بعد شوکت کے نام کی پرچی نکلی لیکن اس سے بات کس طریقہ سے کی جائے عابد نے ثمینہ کو اس بات کے لئے بھی راضی کرلیا کہ وہ شوکت کی بیوی سے اس بارے میں بات کرے اگلے روز ثمینہ دوپہر کے وقت گاڑی پر شوکت کے گھر چلی گئی اور نسیم سے اس بارے میں بات کی اور اس کو بھی منا لیا لیکن اس نے کہا کہ وہ شوکت سے بات کرے گی خیر شوکت بھی اس کے لئے راضی ہوگیا اب صرف ڈاکٹر کی طرف سے ڈیٹ دی جانی تھی پندرہ دن تک ہر دوسرے روز عابد اور ثمینہ ڈاکٹر کے پاس جاتے رہے مختلف قسم کے ٹیسٹ کئے گئے ایک دن شوکت بھی ڈاکٹر کے پاس گیا جہاں اس کے خون اور جرثوموں کے مختلف ٹیسٹ لئے گئے اور معاملے پر ایڈوانس میں خوش خبر ی سنا دی گئی میڈیسن جاری رہی پھر ڈاکٹر نے کہا کہ بس دو تین دن تک آپ جرثوموں کا بندوبست کرلیں جبکہ رات کو عابد کو کسی بزنس میٹنگ کے لئے ایک ہفتہ کے لئے ایمرجنسی میں دبئی جانا پڑا اس نے ثمینہ سے کہا کہ جس دن بھی ڈاکٹر ٹائم دے وہ اس معاملے میں غفلت نہ کرے بلکہ شوکت سے اور ثمینہ سے بات کرکے کام کرلے اسی دن رات کو ڈاکٹر نے آپریشن کے لئے دو دن بعد کا ٹائم دے دیا اور کہا کہ وہ شام کو چار بجے آجائے بس معمولی سا آپریشن کرکے وہ جرثومے اس کے رحم میں رکھ دے گی اس نے گھر آکر ثمینہ سے بات کی جس نے بتایا کہ وہ اور شوکت تو کراچی آگئے ہیں انہیں ایک فیملی میٹر نمٹانا تھا خیر پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے شوکت مقررہ دن گھر پہنچ جائے گا جیسے جیسے ٹائم گزر رہا تھا ثمینہ کے جسم سے جان نکلتی جارہی تھی وہ اگلے روز بھی رات کو ڈاکٹر کے پاس گئی جس نے اسے ایک پلاسٹک کی ٹیوب دی اور کہا کہ اس میں جرثومے لانے ہیں لیکن یہ بات یاد رہے کہ یہ جرثومے بہت جلد مر جاتے ہیں انہیں ہر صورت چالیس منٹ کے اندر میرے پاس لانا ہے تاکہ ان کو لیبارٹری میں رکھ کر مصنوعی طریقہ سے آپریشن کے وقت تک زندہ رکھا جاسکے اور کوشش کرنا کہ دوپہر دو بجے تک جرثومے لے آناثمینہ ٹیوب پکڑے سوچتی سوچتی گھر آگئی وہ ساری رات اس بارے میں سوچتی رہی اگلے روز اس کو صبح دس بجے شوکت کا فون آگیا کہ وہ گھر پہنچ گیا ہے جس وقت مرضی آجانا وہ تیارہوکر گیارہ بجے گھر سے نکل پڑی اور گاڑی پر دس منٹ میں اس کے گھر پہنچ گئی اس کے گھر سے ڈاکٹر کا کلینک صرف پندرہ منٹ کا راستہ تھاوہ گاڑی اس کے گھر کے پاس باہر سڑک پر کھڑی کرکے کافی دیر تک سوچتی رہی کہ کیا کرے اور کیسے جائے اس کے پاس جبکہ اس وقت نہ نسیم پاس ہے اسی دوران پھر شوکت کا فون آگیا اس نے موبائل کی سکرین پر نمبر دیکھا اور آن کرکے اسے کہا کہ میں بس دروازے کے قریب ہی ہوں اور بس ایک دو منٹ میں پہنچ جا?ں گی وہ دروازے کے سامنے پہنچی ہی تھی کہ شوکت نے دروازہ کھول دیا اس نے گاڑی اندر پارک کی اور اس کے ساتھ بیڈ روم میں چلی گئی اس نے گلابی رنگ کی کاٹن کی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی چہرے پر ہلکا سا میک اپ قیامت ڈھا رہا تھا
کیا لیں گی آپ‘ بیڈ روم میں پہنچتے ہی شوکت نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
نہیں کچھ نہیں بس آپ جلدی کردیں ٹائم بہت کم ہے‘ ثمینہ نے ٹیوب اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
اوکے ‘ اس نے اس کے ہاتھ سے لی اور فوری طورپر پہنی ہوئی نکر اتارکر اس کے پاس ہی کھڑا ہوکر اپنا لن ہاتھ میں پکڑ لیااس کا لن ہاف اریکٹ تھا ثمینہ کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنی بے شرمی سے ایسی حرکت اس کے سامنے ہی کرے گا اس نے اسے دیکھا تو پہلے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا اور پھر چند لمحے بعد ہی اٹھ کر باہر کی طرف چل دی اور سامنے حال میںپڑی کرسیوں پر جابیٹھی وہ جاتے ہوئے دروازہ بھی بند نہ کرکے گئی تھی اس نے وہاں پہنچ کر دیکھا شوکت دوسری طرف منہ کئے ہوئے اپنے ہاتھ سے اپنے لن کی مٹھ ماررہا ہے شوکت ایک بڑے سے آئینے کے سامنے کھڑا تھا اور ایسے زاویئے پر تھا کہ ثمینہ کو باہر بیٹھے ہوئے بھی نظر آرہا تھا اس نے کبھی کسی مرد کو ایسا کرتے نہیں دیکھا تھا حتی کہ کبھی عابد نے بھی ایسا نہیں کیا تھاوہ اس کو مسلسل ٹکٹی باندھے دیکھے جارہی تھی جبکہ شوکت نے بھی ایک دو بارکن اکھیوں سے دیکھا کہ وہ اسے مسلسل گھور رہی ہے جبکہ ثمینہ کو معلوم نہیں ہوا کہ شوکت نے اسے گھورتے ہوئے دیکھ لیا ہے وہ اپنے ٹانگیں پھیلائے بیڈ کے قریب کھڑا مسلسل مٹھ ماررہا تھا
جبکہ ثمینہ اس کے لن کا عابد کے لن سے موازنہ کررہی تھی دونوں کا سائز تقریباً برابر تھا
اوہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ فک آف۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عابد نے فوری طورپر جھک کر بیڈ پر پڑی ٹیوب پکڑی اور اپنے لن کے منہ پر لگا دی اس کو شائد یاد نہیں رہا تھا کہ اس نے اپنی منی اس ٹیوب میں ڈالنی ہے جب وہ فارغ ہونے لگا اور کام عین موقع پر پہنچ گیا تو اس کو یاد آیا اس نے جھک کر جتنی دیر میں ٹیوب پکڑی اور اپنے لن سے لگائی اس کے لن سے ایک پچکاری نکل کر بیڈ پر اور ایک دو قطرے نیچے قالین پر گر گئے خیر اس نے ٹیوب میں باقی کی تمام منی ڈالی اور پھر ٹیوب وہیں رکھ کر باتھ روم میں گھس گیا واپسی پر اس نے نیکر پہنی ہوئی تھی اس نے بیڈ سے ٹیوب پکڑی اور ثمینہ کو جاپکڑائی
تھینک یو۔۔۔۔۔۔۔ثمینہ نے اس کے ہاتھ سے ٹیوب پکڑی تووہ تقریباً آدھی بھری ہوئی تھی اس نے ایک لمحے کے لئے سوچاکہ آج تک عابد کے لن سے اتنی زیادہ منی نہیں نکلی خیر یہ ٹائم ان باتوں کوسوچنے کا نہیں تھا اسے فوری طورپر یہ ٹیوب لے کر ڈاکٹر کے پاس پہنچنا تھا وہ جلدی میں اس کا ڈھکن لگانا بھی بھول گئی اور تقریباًبھاگتے ہوئے باہر کی طرف لپکی گیراج میں پہنچنے پر اس کا پا?ں کسی چیز سے ٹکرایا اور وہ منہ کے بل نیچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ٹیوب بھی زمین پر آگئی اس نے سیدھی ہوکر جتنی دیر میں ٹیوب کو پکڑا وہ خالی ہوچکی تھی
اوہ شٹ ٹ ٹ ٹ ٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شوکت جو بیرون دروازے کے عین درمیان میں کھڑا تھا وہ اسے دیکھ کر کہنے ”سوری میں ڈھکن لگانا بھول گیا جس کی وجہ سے ٹیوب سے مادہ ضائع ہوگیا
یہ تو برباد ہوگیا ہے‘ ثمینہ ٹیوب کو اٹھاکر اس کو پھٹی ہوئی آنکھوں سے دیکھتے بولی‘ شوکت نے غور کیا کہ اس کی آنکھوں میں چند آنسو بھی آگئے تھے
اٹس اوکے‘ شوکت نے اس کو تسلی دینے کے انداز میں کہا
نہیں شوکت یہ ٹھیک نہیں ہوا‘ ثمینہ کی آنکھوں سے آنسو تیزی سے نیچے آنے لگے
وہ کھڑی ہوگئی اور باتھ روم میں جاکر اس نے اپنے ہاتھ دھوئے پھر واپس آکر ٹیوب میںکے ساتھ لگے جرثوموں کو د یکھنے لگی ‘ میرے پاس اور کوئی ٹیوب بھی نہیں ہے اور اگر ابھی ٹیوب لینے گئی تو آج کی اپوائنمنٹ رہ جائے گی اور آئندہ کی اپوائنمنٹ معلوم نہیں کب ملے ‘ اس نے شوکت کی طرف خالی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہاجیسے کہ اس کا سب کچھ برباد ہوگیا ہو
خیر اب کیا ہوسکتا ہے میں آپ سے معذرت چاہتی ہوں کہ آپ کو تکلیف دی ‘ تھوڑی دیر خاموشی کے بعد ثمینہ جانے کے لئے اٹھتے ہوئے بولی
ٹھہرو۔۔۔۔۔ابھی کچھ کرتے ہیں‘ شوکت نے اس کو کندھے سے پکڑ کر روک لیا اس سے پہلے کہ وہ اسے کچھ کہتی شوکت اسے لے کر اپنے بیڈروم میں چلا گیا
میں دوبارہ کوشش کرتا ہوں ‘ لیکن تم میری مدد کرو‘ اس نے ثمینہ کے جسم کے گرد اپنے بازو حائل کرتے ہوئے کہااس وقت وہ اپنے ذہن میں کچھ اور ہی پلان بنا چکا تھا
کیسے‘ثمینہ نے اس کو سوالیہ انداز میں پوچھا۔۔۔ثمینہ نے یک دم غور کیا کہ شوکت کی آنکھوں میں عجیب سی چمک اورچہرے پر غبیصانہ قسم کی مسکراہٹ تھی وہ شوکت کو پیچھے دھکیلتے ہوئے تھوڑا دور ہوگئی اس لمحے اس کے دماغ میں ایک سیکنڈ میں ہزاروں خیال آئے لیکن وہ خاموش کھڑی رہی
اس ٹیوب میں دوبارہ جرثومے دے دیتا ہوں‘ شوکت نے اس کو ہنستے ہوئے جواب دیا جس پر وہ تھوڑی دیر کے لئے ساکت ہوگئی
لیکن میں کیسے مدد کرسکتی ہوں‘ ثمینہ نے اس سے پوچھا
میرا مطلب ہے کہ اس مقصد کے لئے میں تمہاری مددچاہتا ہوں ثمینہ اس نے پھر سے اسے اپنی باہوں میں بھرتے ہوئے کہا
ثمینہ ایک لمحے کے لئے حیران ہوگئی کہ یہ کیا کررہا ہے پھر اس کو خیال آیا کہ شائد شوکت اس کو مٹھ لگانے کے لئے کہہ رہا ہے اسے چونکہ شوکت کے جرثومے ہر حال میں چاہئے تھے اس لئے اس نے سوچا کہ ایسا بھی کرلے گی اور پھر بیڈ پر بیٹھ گئی اور شوکت کے حکم کا انتظار کرنے لگی اسے نہیں معلوم تھا کہ سب کچھ کیسے کرنا ہے کیوں کہ آج تک اس نے عابد کی بھی مٹھ نہیں لگائی تھی
میں جانتا ہوں کہ تم اپنے خاوند کے ساتھ کتنی باوفا ہو اور مجھے یہ بات پسند بھی ہے لیکن مجھے اس کام کے لئے تمہاری مدد چاہئے تم سوچ رہی ہو گی کہ یہ عجیب کام ہے لیکن یہ میرے لئے بھی عجیب ہے ‘ شوکت نے اس کے مزید قریب ہوتے ہوئے کہا وہ نیکر پہنے کھڑا تھا شوکت نے اس کو بیڈ پر لٹا دیا اور خود بھی نیکر اتار کر اس کے پاس لیٹ گیا ثمینہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور اس کے بیٹھے ہوئے لن کو اپنی دو انگلیوں سے پکڑ لیا
م م م م م م م م۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا
ثمینہ نے بھی اپنی آنکھیں بند کرلیں اور پھر اس کے لن کو اپنی پورے ہاتھ میں پکڑ لیا اس کا لن یقینا عابد کے لن کی نسبت بڑا اور موٹا تھا لیکن فرق اتنا زیادہ نہیں تھا اس نے اپنے ہاتھ سے اس کے لن کو دبانا شروع کردیا جو ابھی تک ڈھیلا ہی تھا ثمینہ نے نوٹ کیا کہ جیسے شوکت نے ہاتھ لگتے ہی ایک آہ بھری تھی اس کے بعد اس نے کوئی آہ نہیں بھری
میں ٹھیک سے کررہی ہوںناں‘ ثمینہ نے یہ سوچتے ہوئے اس سے پوچھا کہ شائد وہ کچھ غلط طریقے سے کررہی ہے
اس کی بات سن کر شوکت اٹھ کر بیڈ سے نیچے اترا اور کمرے میں بیڈ کے پاس ہی پڑی الماری سے ایک کپڑوں کا جوڑا نکال کر لایا
یہ پہن لو اور آرام کے ساتھ بیٹھو تاکہ تمہاری کپڑے خراب نہ ہوجائیں‘ ثمینہ جو بچوں کی طرح اس کی طرف دیکھ رہی تھی اس نے چپ چاپ اس کے ہاتھ سے کپڑے لئے اور باتھ روم میں جاکر چینج کرکے واپس آگئی باتھ روم سے باہر آئی ہی تھی کہ شوکت نے اسے اپنے گلے سے لگا لیا یہ سب اتنی اچانک ہوا کہ وہ حیرت زدہ ہوگئی اس نے شوکت کو خود سے علیحدہ کیا اور ق غصے بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگی
یہ کیا کررہے ہیں آپ ۔۔ میں شادی شدہ ہوں اور آپ کو اپنے بھائی کی طرح سمجھتی ہوں‘ ثمینہ نے اسے کہا
دیکھو ثمینہ ‘ اگر یہ کھڑا نہ ہوا تو میں تمہاری مدد کیسے کرسکتا ہوں‘ شوکت نے اسے سمجھانے والے انداز میں کہا
وہ اس کی بات سن کرخاموش ہوگئی کیوں کہ اس کے پاس کوئی اورچوائس نہ تھی وہ کسی بے جان گڑیا کی طرح کھڑی تھی شوکت نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کی قمیض اتار دی اب وہ صرف بریزئیر اور شلوار میں اس کے سامنے کھڑی تھی اب اس کا ریشمی جسم اور بازو شوکت کے سامنے تھے ایک لمحے کے لئے اس نے اس کے جسم کو بغیر چھوئے دیکھا اور پھر اس نے سوچا کہ آج ثمینہ کو ہر صورت میں چود کر چھوڑے گا چاہے اس کے لئے کچھ بھی کرنا پڑے
دیکھو ثمینہ ہم لوگ سیکس نہیں کریں گے مگر تم مجھے اورل کرنے کی اجازت دے دو تو یہ کام جلدی ہوجائے گا‘ شوکت نے اس کے بازو کو چھوتے ہوئے کہا
ثمینہ نے اس کو غور سے دیکھتے ہوئے بچے کی خواہش پوری کرنے کے لئے یہ قربانی دینے کا بھی فیصلہ کرلیااور کہا”اوکے“
وہ اس کی بات سن کر پاگل ہوگیا اور اس کے لبوں پر کسنگ کرنے لگا پھر اس نے اس کے بازووں پر اور پھر اس کی گردن پر کسنگ شروع کردی جبکہ ثمینہ مسلسل اس کے لن کو مسل رہی تھی جو ابھی تک پوری طرح کھڑا نہیں ہوا تھا لیکن اس میں حرکت شروع ہوگئی تھی شوکت نے دو تین منٹ تک کسنگ کے بعد پھرکہا” اپنا بریزیئر اتار دوپلیز“
”اوکے لیکن پلیز جلدی۔ لیکن تم اس صورتحال سے کوئی فائدہ اٹھانےکی کوشش نہ کرنا میں نے تم پر بہت بھروسہ کیا ہے‘ ثمینہ نے اسے کہا
اس نے بریزئیر کے ہک کھول کر اسے اس کے جسم کے علیحدہ کیا اور اس کے اوسان خطا ہوگئے ۔ 34 سائز کے ممے اور ان کے اوپر چھوٹے چھوٹے پنک نپلز
اوہ مائی گاڈ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے مموں پر رکھ کر انہیں ہلکا ہلکا سا دبانا شروع کردیا جس پر ثمینہ کے منہ سے ایک چھوٹی سی آہ ہ ہ ہ ہ ہ نکل گئی اس نے ثمینہ کے چہرے کی طرف دیکھا لیکن اس نے اپنی آنکھیں بند کررکھی تھی شوکت نے نوٹ کیا کہ ثمینہ کا سانس تھوڑا سا لمبا ہوتا جارہا ہے اس نے اپنے ایک ہاتھ سے اس کا ایک مما دبانا شروع کیا اور دوسرا ہاتھ اس کی شلوار کے نیفے پررکھ کر اس کو تھوڑا سا نیچے کی طرف کھسکا دیا جس پر وہ تھوڑا سا ٹھٹھک کر پیچھے ہٹ گئی اور اس کا لن ہاتھ سے چھوڑ دیا اس کا لن اب پوری طرح کھڑا ہوچکا تھا
میں نے تمہاری لمبی اور گوری ٹانگوں کو کس کرنا ہے ‘ شوکت نے اس کو کہا تو اس نے پھر اپنی آنکھیں بند کرلیں وہ نیچے کو ہوا اور اس کی شلوار اتار دی اور پھر اس کی گوری گوری رانوں پر ہاتھ پھیرنے لگا اس کی رانیں بالوں سے پاک اورسفیدتھیں جیسے کہ ریشم کی بنی ہوں اس نے ثمینہ کو بیڈ پر لٹا دیا اور پھر اس کی ٹانگوں کے قریب دوزانوں ہوکر بیٹھ گیا ثمینہ نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی پھدی پر رکھے ہوئے تھے شوکت نے اپنا منہ اس کی رانوں پر رکھا اور پھر زبان اس کی رانوں پر پھیرنے لگاپھر اس نے اس کے ہاتھ پیچھے کئے
واووووووو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی پھدی بالوں سے پاک اور سفید تھی جس کے لب گلابی رنگ کے تھے اس نے اپنا منہ اس کی پھدی کے اوپر رکھ دیا ثمینہ نے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن کام یاب نہ ہوسکی اس کی زبان ثمینہ کی پھدی کے اندر جاچکی تھی ثمینہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے تھے وہ لیٹی لیٹی آنسو بہا رہی تھی جبکہ وہ اپنی زبان اس کی پھدی کے اندر باہر کررہا تھا پھر چند سیکنڈ کے بعد وہ رک گیا اور ثمینہ سے کہنے لگا کہ میرا لن اپنے منہ میں لو۔۔۔۔
مجھے اس کام کے لئے مجبور نہ کرو جو میں نے کبھی بھی نہیں کیا مگر اس کے منہ کے قریب ہوتے ہوئے اپنا لن اس کے منہ پررکھ دیا نا چاہتے ہوئے بھی ثمینہ نے اپنا منہ کھولا اور اس کا لن اپنے منہ میں لے لیا اور منہ ہلکے سے آگے پیچھے کرنا شروع کردیا اس کے ہاتھ اس کے ٹٹوں پر تھے جن کو وہ آہستہ آہستہ سے سہلا رہی تھی ثمینہ کے رسیلے ہونٹ اس کے لن کو چوس رہے تھے جس پر وہ ہواﺅں میں اڑنے لگا تھا
اچانک اس نے اس کا لن اپنے منہ سے نکالا اور کہنے لگی ”اب یہ ڈرامہ بند کرو“
بس تھوڑا سا اور میں بس آنے والا ہوں‘ شوکت نے آنکھیں بند کئے ہوئے کہا
یہ ٹیوب۔۔۔۔ اس نے بیڈ کے پاس ٹیبل پر پڑی ٹیوب پکڑ کر آگے کرتے ہوئے کہا
اس کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔ شوکت نے آنکھیں کھولتے ہوئے کہا
کیا مطلب۔۔۔۔
مطلب یہ کہ میں تم کو چودوں گا اپنے جرثومے خود تمہارے اندر ڈالوں گا
نہیں شوکت ایساٹھیک نہیں ہے میں تم کو بھائی سمجھتی ہوں‘ ثمینہ نے اس کی منت سماجت کرتے ہوئے کہا
میں جو کہہ رہا ہوں ویسا ہی کرو۔ شوکت نے اس کو کہا
تڑاخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمینہ نے اس کے گال پر ایک زور دار تھپڑ رسید کردیا تھا
وہ اٹھا اور الماری کے کھلے دروازے میں لگا ہوا کیمرہ اتار کر اس کو دکھاتے ہوئے کہنے لگا ”یہ دیکھو سب کچھ ریکارڈ ہوچکا ہے سوچ لو میرا کہا مانو گی یا میں یہ ویڈیو عابد کو دکھا دوں
کیمرہ دیکھتے ہی ثمینہ کا جسم ٹھنڈا ہوگیا وہ حیرت بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگی شوکت بھی اتنا ذلیل ہوسکتا ہے وہ سوچ رہی تھی ”نہیں پلیز شوکت ایسا نہ کرو“
بکواس بند کرو ورنہ میں ابھی عابد کو فون کرتا ہوں‘ شوکت نے اسے دھمکی دی
دیکھوں میں تمہاری بہنوں جیسی بھابھی ہوں مجھے جانے دو میں تم سے بھیک مانگتی ہوں۔۔۔۔۔تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تم ایسا کچھ نہیں کرو گے پلیز پلیز مجھے جانے دو ۔۔۔۔۔خدا کے واسطے۔۔۔وہ رونے لگی تھی مگر شوکت پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا اس نے کیمرہ پھر الماری میں رکھا اور اس کے قریب آکر اس کو پھر بیڈ پر لٹا دیا اور اس کی ٹانگوں کے درمیان میں آکر بیٹھ گیااب ثمینہ سمجھ گئی تھی کہ وہ بے بس ہوگئی ہے اس نے خاموشی سے اپنی آنکھیں بند کرلیں اس نے اپنے لوہے کے گرم راڈ جیسے لن کو اس کی پھدی پر فٹ کیا اور جھٹکا دیا
اوئی میں مر گئی ی ی ی ی ی ی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔۔نو نہیں ںںںںںںںمیں مر گئی ی ی ی ی ی ی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے منہ سے چیخیں نکل گئیں اس کو تکلیف نہیں ہورہی تھی بلکہ اس کا اپنے خاوند کے ساتھ باوفا ہونے کا بھرم ٹوٹ گیا تھا جس کی وجہ سے اس کی چیخ نکل گئی تھی وہ اس کے نیچے سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی لیکن اب کیا ہوسکتا تھا اس نے دوتین جھٹکے اور دیئے اور پورا لن اس کی پھدی کے اندر چلا گیا اب وہ ہلکے ہلکے سے جھٹکے دے رہا تھا اور ہر جھٹکے کے ساتھ اسکے منہ سے چیخ بھی نکل رہی تھی اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور شوکت کے جھٹکے بھی جاری رہے آہستہ آہستہ سپیڈ بڑھتی گئی اور دو تین منٹ کے اندر شوکت اپنی پوری طاقت کے ساتھ اپنا لن اس کی پھدی کے اندر باہر کررہا تھا اس نے بیس منٹ تک جھٹکوں کے بعد یک دم اپنا لن اس کی پھدی سے نکالا چند لمحوں کے لئے دم لیا اور اپنی پوری طاقت جمع کرکے پھر بھرپور جھٹکا دیا اور پھر ایک دو تین اور شوکت اس کے ساتھ چمٹ گیا اس کے لن نے ثمینہ کی پھدی اپنے جرثوموں سے بھر دی تھی وہ اس سے علیحدہ ہوا اور پھر چند سکینڈ تک اس کے ساتھ لیٹا رہا ثمینہ فوری طورپر کھڑی ہوگئی
تم نے اچھا نہیں کیا شوکت ۔۔۔۔۔۔۔اس نے اٹھتے ہوئے کہا جس پر شوکت نے ہنستے ہوئے اسے دیکھا اور اٹھ کر پاس ٹیبل پر پڑی ٹیوب اٹھا کر اپنے لن کی ٹوپی کے ساتھ لگائی اور دو تین قطرے اس میں گر گئے پھر اس نے یہ ٹیوب اس کے حوالے کردی جو اسے لے کر ڈاکٹر کے پاس چلی گئی
آگئی مسز عابد میں آپ ہی کا انتظار کررہی تھی ۔۔۔۔ڈاکٹر نے اسے کہا
یہ لیں۔۔۔۔۔۔۔اس نے ٹیوب اس کو پکڑا دی ڈاکٹر نے اس کو غور سے دیکھا پھر اس کو ایک نرس کو دے کر ثمینہ کو آپریشن تھیٹر میں لے آئی اس کے کپڑے اتار کر اس کو سٹریچر پر لٹایااور اس کی پھدی کا معائنہ کرنے لگی
یہ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر نے اس کی پھدی کے لبوں پر لگے منی کے چند قطرے دیکھ کر اس کو پوچھا پھر اس نے اپنی تمام کہانی ڈاکٹر کو سنا دی اور اسے کہا کہ پلیز آپ اس راز کور از رکھئیے میں نے خود سے ایسا نہیں کیا
ٹھیک ہے مسز عابد۔۔۔۔۔۔۔میرے خیال میں آپ اب پریگننٹ ہوجاﺅ گی چند دن دیکھ لو پھر آپ دوبارہ آنا ابھی آپریشن کی ضرورت نہیں ہے
ٹھیک ہے ثمینہ نے کپڑے پہنے اور گھر چلی آئی چند دن بعد اس نے ڈاکٹر سے چیک اپ کرایا
مبارک ہومسٹر اینڈ مسز عابد آپ ماںاور باپ بننے والے ہیں۔۔۔۔ڈاکٹر نے ان دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا عابد نے اسے گلے لگا لیا جبکہ ثمینہ جان کن سوچوں میں گم تھی


0 comments:

Post a Comment

 

© 2011 Sexy Urdu And Hindi Font Stories - Designed by Mukund | ToS | Privacy Policy | Sitemap

About Us | Contact Us | Write For Us