Meri Sexy Teacher

میں آج آپ کو اپنی ایک سچی واقعہ بتانے جا رہا ہوں. بات کچھ دن پہلے کی ہی ہے.

میں ابھی ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا ہوں پر سرکاری جاب کی تیاری بھی کر رہا ہوں. میں نے سیل (سٹیل اتھورٹي آف انڈیا) کا فارم بھرا تھا اور اس کی امتحان کو نےڈا کے اےورگرين پبلک اسکول میں 2:30 بجے سے تھی اور 2 بجے رپورٹنگ ٹائیم تھا!

میں امتحان مرکز پر ٹھیک دو بجے پہنچ گیا. میرا رول نمبر دوسری منزل پر کمرہ نمبر 203 میں تھا. میں کمرہ تلاش کرتے ہوئے 203 نمبر میں گھسنے لگا. تبھی میڈم باہر آ رہی تھی، ہم دونوں ایک دوسرے سے ٹکرا گئے. ٹکراتے ہی میرا منہ اس کی پیشانی کو چھو گیا اور اس کے دونوں چھاتی میرے سینے سے ٹكراے.

وہ ہٹی اور مجھے ساری بولا.

تو میں اس سے ہنستے ہوئے بولا - کوئی بات نہیں میم! ایسا تو ہوتا ہی رہتا ہے، غلطی تو میری ہی تھی. یہ سنتے ہی اس نے بولا - نہیں نہیں! غلطی میری ہے، میں نے ہی توجہ نہیں دی!

پھر اس نے کہا - اوکے، جاؤ، اپنے سیٹ پر بیٹھ جاؤ.

میں گیا اور اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا اور پھر سے میڈم کی طرف دیکھنے لگا. وہ بھی مجھے ہی دیکھ رہی تھی. میں ہنس دیا، وہ بھی مسکرانے لگی. چونکہ میں آدھے گھنٹے پہلے آ گیا تھا، میرے پاس وقت بہت تھا. تو میں بس میم کے كھيالو میں کھو گیا اور اسے دیکھتا ہی رہا. اس نے بھی میری طرف دیکھنا شروع کر دیا تھا، شاید اسے بھی یہ لگ گیا تھا کہ میں اسے لائن مار رہا ہوں.

پھر اس آدھے گھنٹے میں اس نے مجھ سے کم سے کم 5-6 بار کسی نہ کسی بہانے سے بات کی. اور آخر میں تو میں اس کے چھاتی کو دیکھ رہا تھا کہ اس نے مجھ سے پوچھا - کیا دیکھ رہے ہو؟

میں نے جواب دیا - ہمالیہ کی چوٹی کے بارے میں سوچ رہا تھا!

اس نے پھر مسکراتے ہوئے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور چلی گئی. میں سمجھ گیا کہ میرا کام ہو رہا ہے. میں پھر اسے دیکھنے لگا. قسم سے کیا لگ رہی تھی - 36-26 - 24 کا سائز ہوگا. میں تو اس کے خواب ہی دیکھنے لگ گیا. تھوڑی دیر میں امتحان شروع ہو گئی اور جب 5 بجے امتحان ختم ہوئی تو تمام نکلنے لگے پر میں وہیں بیٹھا رہا اور اپنا موبائل چالو کرنے لگا.

اتنے میں سارے لوگ نکل چکے تھے، صرف میں اور وہ کلاس میں تھے.

اس نے میری طرف دیکھا اور پوچھا - کیسا ہوا ٹیسٹ؟

میں نے کہا - ٹیسٹ کا کیا ہے ہوتے ہی رہتا ہے!

اور میں اس سے اس کے بارے پوچھنے لگا - کہا رہتی ہو؟ گھر میں اور کون کون ہے؟

یہی سب!

تب تک اس کا کام بھی ہو گیا تھا پر پھر بھی میں بات کی جا رہا تھا تو اس نے بولا - تم گیٹ پر میرا انتظار کرو، میں دس منٹ میں آتی ہوں.

میں نے اوکے بولا اور گیٹ پر چلا گیا.

وہ ٹھیک دس منٹ میں آ گئی پھر اس نے کھل کر بات کرنا شروع کیا. اس نے بتایا کہ اس کا گھر پاس میں ہی ہے اور وہ اکیلی رہتی ہے، اس کے گھر والے کانپور میں رہتے ہیں.

پھر اس نے مجھے بولا - چلو، تم میرے کمرے پر چلو.

میں نے پہلے تو انکار کیا پر دل تو میرا بھی تھا ہی! ہم اس کے گھر گئے.

کمرہ چھوٹا ہی تھا ایک بیڈ، ایک کرسی اور باورچی خانے تھی.

اس نے مجھے بیٹھنے کو کہا، وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ گئی. ہم نے باتیں کی. پھر سیکس کی باتیں شروع ہو گئی.

اس نے مجھ سے پوچھا - چائے پيوگے؟

میں نے ہاں کر دی. وہ باورچی خانے میں گئی اور چائے بنانے لگی. میں اس کے ساتھ باورچی خانے میں گیا اور اسے پیچھے سے پکڑ لیا. وہ پہلے تو تھوڑا سہم گئی پر پھر اس نے کچھ نہیں بولا.

تھوڑی دیر کے بعد اس نے بولا - کیا کر رہے ہو؟

میں نے کہا - وہی، وہ ہم کلاس میں نہیں کر پائے تھے!

پھر وہ چپ ہو گئی.

میں ویسے ہی اسے پیچھے سے پکڑے ہوئے جھول رہا تھا. پھر دھیرے سے اپنے ہاتھ اس کے چھاتی پر لے گیا. تھوڑی کے بعد وہ گرم ہونے لگی.

چائے تیار ہو چکی تھی پھر دونوں نے چائے پی پر چائے پینے كامن کس کا تھا، ہم ایک دوسرے کو ہاتھ لگا رہے تھے.

جلدی سے ہم نے چائے ختم کی، پھر اس نے کہا - میں کپڑے بدل کر آتی ہوں.

اور باتھ روم میں چلی گئی پر اس نے دروازہ بند نہیں کیا. میں سمجھ گیا کہ یہ اشارہ ہے.

میں بھی اٹھا اور باتھ روم میں چلا گیا اور جاتے ہی میں نے اسے چومنا شروع کر دیا. اس نے مجھے چومنا شروع کر دیا.

میں نے اسے اپنی گود میں اٹھایا اور پیچھے بیڈروم میں لے آیا. ابھی اس نے پورے کپڑے پہنے ہوئے تھے! میں نے اسے بیڈ پر پٹک دیا، اس پر چڑھ گیا اور چومنے لگا.

دیکھتے ہی دیکھتے وہ گرم ہو گئی. میں نے اس کے ہونٹوں کو اس نے میرے ہونٹوں خوب چوسا. چوستے ہوئے ہی میں نے اپنے ہاتھ اس کے چھاتی پر رکھ دیا اور اسے دبانے لگا.

وہ سی سی سی صلی س س س کی آوازیں نکلنے لگی.

میں نے کم سے کم 15 منٹ تک اس کے چھاتی دبایے اور اس کو ہونٹوں کو چوستا رہا. وہ ایکدم گرم ہو چلی تھی. ابھی تک میں اسے اوپر سے ہی دبا رہا تھا. پھر میں نے اس کے کرتے کی چین کھول كرنيچے سرکا دیا اور اسے دیکھنے لگا.

اس نے اپنے آپ کو دونوں ہاتھوں سے ڈھک لیا، پر کب تک؟

میں نے اسے دبانا چالو کیا پھر دھیرے سے اس کی برا کا ہک کھول کر برا ہٹا دی. اس کا تن اس وقت دیکھنے کے قابل تھا.

میں پھر اسے چومنے اور دبانے لگا. اتنے میں وہ میرے کپڑے اتارنے لگی اور اس نے میرا شرٹ الگ کر دیا اب ہم دونوں اوپر سے ننگے تھے. میں نے بھی دیر نہ کرتے ہوئے جلد اس کی شلوار کے ناڑے کو کھینچ کر سلوار نیچے کر دی.

اب وہ میرے سامنے صرف پیںٹی میں تھی. کیا لگ رہی تھی!

پھر میں نے اسے چومتے ہوئے ایک ہاتھ اسکی چوت پر پیںٹی کے اوپر سے ہی لگایا، اس کی پیںٹی گیلی ہو چکی تھی. اتنے میں اس نے میری جینز کو اتار پھینکا. میرا لںڈ بھی کھڑا تھا، وہ میرے لںڈ کی طرف دیکھنے لگی، اور میں اسکی چوت سہلا رہا تھا.

میں نے اسکی پیںٹی بھی اتار پھینکی اور اس کی چوت کو چاٹنے لگا. سواد تھا اس کے رس کا!

پھر میں نے اس کے چھاتی دبانا چالو کر دیا. تھوڑی دیر چوچیاں دبانے کے بعد میں نے پھر سے اس کی چوت چاٹنا شروع کر دیا. وہ بھی گاںڈ اٹھا - اٹھا کر چوت چٹوانے لگی. دسےك منٹ میں وو جھڑ گئی. میں نے اس کا سارا رس چاٹ لیا.

وہ تھوڑی دیر تک لست پڑی رہی پھر اس نے میرے لںڈ کو چوسنا چالو کیا تو میرے لںڈ کی موٹائی سے اس کا مکمل منہ بھر گیا. وہ جیسے میرا لںڈ چوس رہی تھی اس سے لگ رہا تھا کہ اس نے پہلے بھی کئی بار لنڈ چوسا ہوگا.

تھوڑی دیر میں میں بھی جھڑ گیا، اس نے میرا آدھا رس پیا اور آدھا اپنی چوت پر لگا لیا.

پھر تھوڑی میں ہم دونوں 69 میں آ کر پھر ایک دوسرے کو چوسنے لگے. میں نے انگلی کرنا شروع کر دیا. وہ سيتكاريا بھرنے لگی، میں نے اور تیز انگلی کرنا شروع کر دیا اور اس کے چھاتی دبانے لگا.

وہ ایک دم مدہوش ہو گئی اور اس نے میرا لںڈ پکڑ کر اپنی چوت پر رکھ لیا.

میں سمجھ گیا کہ اب یہ چدنے کو تڑپ رہی ہے پر میں نے اسے اور تڑپايا اور پھر اسے زور زور سے انگلی کرنے لگا. وہ ایک دم بے حال ہو چکی تھی. اس نے پھر میرا لںڈ پکڑا اؤر اپنی گاںڈ اٹھا کے گھسوانے لگی. پر یہ اتنا آسان تھوڑے ہی تھا. پھر میں نے بھی اس کا ساتھ دیا، میں نے اس کے دونوں پیر موڑ کر پھیلا دیا اب اس کی چوت بالکل فول چکی تھی اور گلابی دکھ رہا تھا. میں نے اپنا لؤڑا اسکی چوت پر رکھا اور رگڑنے لگا.

وو بولنے لگی - اب اور مت اتڑات! اب مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا ہے!

میں بولا - رانی، یہ تڑپ بجھانے کے لئے ہی تو کر رہا ہوں!

پھر میں نے دیر نہ کرتے ہوئے اپنے لںڈ کو اس کی چوت کے پانی سے تھوڑا گیلا کیا اور اسکی چوت پر رکھ کر رگڑنے لگا.

اس نے سوچا کہ میں پھر اسے تڑپا رہا ہوں پر میں نے ایک بار زور کا جھٹکا لگا کر اندر ڈال دیا.

وہ زور سے چیخ پڑی.

میں نے اس کے منہ پر اپنا منہ رکھ دیا تاکہ اسك آواز دب جائے، اور اس کے بوبے دبانے لگا. ابھی تو میرے لںڈ کا اگر حصہ ہی بس اندر گیا تھا. تھوڑی دیر بعد جب اس کا درد کم ہونے لگا تو اس نے بولا - تمہارا بہت ہی موٹا ہے، بہت درد دے رہا ہے.

میں نے بولا - موٹا سے تو مزا بھی آئے گا، پہلے تھوڑا درد ہوگا پر بعد میں مزا آئے گا.

پھر میں نے ایک بار اور زور لگا کر دھکا مارا.

وہ پھر چلا اٹھی.

پھر میں نے اس سے پوچھا - اس سے پہلے کب چدی تھی؟

اس نے بتایا - 8-9 ماہ پہلے!

شاید اس لیے اسے اتنا درد ہو رہا تھا. اس کی چوت کس چکی تھی. اس درمیان میں نے اس کے بوبے دبانے اور چومنے کا پروگرام جاری رکھا. میں نے تیسرا دھکا تھوڑا زور لگا کر مارا اور میرا پورا لںڈ اسکی چوت سماں گیا.

وہ چلانے لگی - میں مر جاؤں گی ......

میں تھوڑی دیر رک گیا اور بولا - ابھی درد نہیں ہوگا! جو ہونا تھا وہ گیا!

تو وہ بولی - بہت درد ہو رہا ہے!

تو میں بولا - بہت درد ہو رہا ہے تو میں نکال لیتا ہوں!

اس نے فورا بولا - نہیں! میں درد برداشت کر لوں گی پر تم نکالنا مت!

اور میں اسکی چوچیوں کو زور - زور سے دبانے لگا. اب میں دھیرے - دھیرے اوپر - نیچے ہونے لگا. اب اس کا درد بھی کم ہونے لگا تھا.

تھوڑی دیر بعد جب اس کا درد کم ہو گیا تو میں نے تھوڑی تیزی بڑھائی اور وہ بھی گاںڈ اٹھا - اٹھا کر میرا ساتھ دینے لگی.

7-8 منٹ میں ہی اس نے بولا - میں جھڑ رہی ہوں!

یہ سنتے ہی میں نے اپنی رفتار اور بڑھا دی اور وہ جھڑنے لگی. پر میں ابھی بھی جس کا کوئی تبدیلی تھا اور اسے چودے جا رہا تھا. میں اسے تھوڑی ویسے ہی چودتا رہا، پھر اس کے ہونٹوں زور - زور سے چوسنے لگا. تھوڑی ہی دیر میں وہ پھر تیار ہو گئی اور پھر میں نے اپنی رفتار بڑھائی. اس بار تو مکمل تجربہ کار کی طرح میرا ساتھ دے رہی تھی. پھر اس نے چدتے ہوئے ہی باتیں کرنی شروع کر دی، اس نے بولا - پہلی بار ایسا لڈ ملا ہے جس سے تسلی ہوئی ہے.

اور وہ زور - زور سے گاںڈ اٹھا - اٹھا کر چدنے لگی. اتنے میں مجھے لگا کہ اب میں جھڑنے والا ہوں.

یہ سنتے ہی اس نے اپنی رفتار بڑھا دی اور اس وقت ایسا لگا جیسے کہ میں جنت کی سیر کر رہا ہوں.

اور پھر ہم دونوں ساتھ میں ہی جھڑنے لگے. وہ بستر پر اور میں اس پر لست پڑ گیا. تھوڑی دیر کے بعد ہم پھر تیار ہو گئے. اور میں نے اسے گھوڑی بننے کو کہا اور اسے گھوڑی بنا کر چودنے لگا. تھوڑی دیر ویسے ہی چودنے کے بعد میں نے اپنا لںڈ نکلا اور اس کی گاںڈ میں ڈال دیا.

وہ چلا اٹھی، اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ میں اس کی گانڈ بھی مارنے والا ہوں.

تھوڑی دیر گاںڈ مارنے کے بعد پھر میں نے لنڈ اسکی چوت میں ڈال دیا. اب اس کی چوت ڈھیلی ہو گئی تھی. بیس منٹ کی چدائی کے بعد ہم دونوں جھڑ گئے. پھر دیر تک ایک دوسرے کو چومتے رہے. اس دن میں نے اس کے ساتھ دو بار سیکس کیا اور تقریبا 9:45 پر میں گڈگاو کے لئے روانہ ہو گیا ........


0 comments:

Post a Comment

 

© 2011 Sexy Urdu And Hindi Font Stories - Designed by Mukund | ToS | Privacy Policy | Sitemap

About Us | Contact Us | Write For Us