Urdu font chudai sexy story read online sex story in urdu language first time sex pehli dafa

یرا نام فران ہے یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے گریجویشن کے بعد نوکری اسٹارٹ کی تھی اور مجھے سکس کرنے کا بہت دل کرتا تھا- میرے لنڈ کا سائز اسوقت 7 انچ لمبا اور 1 انچ موٹا تھا- چناچہ پہلی تنخواہ آنے پر میں نے اپنے ایک عزیز دوست کے ساتھ رنڈی کو چودنے کا پلان بنایا اور اس دوران میرے گھر والے گاوں گئے ہوئے تھے کزن کی شادی پر اور ہم دونوں ورجن تھے اور سردیوں کی وجہ سے ٹھرک بھی کافی چڑھی ہوئی تھی تو ہم نے بڑی مشکل سے ایک چکلے کا پتہ کیا جو نائٹ پر لڑکیاں بھیجتا تھا اور وہاں جاکر ہمیں چکلے چلانے والی نے لڑکیان دکھانا شروع کیں اور کہا کہ پر لڑکی وہ 3000 نائٹ لے گی اور لانا لے جانا ہمارا ہوگا-
میرے دوست کا تعلق ایک امیر گھرانے سے تھا تو اسکے ہاس گاڑی تھی اور ہم نے رنڈیوں میں سے ایک لڑکی مصبہ کو سلیکٹ کیا جسکی عمر 19 سال تھی اور تھوڑی سانوالی رنگ کی مگر سکسی فیگر اور لمبے ہونٹ پلس نارمل ممے تھے اور بتایا کہ یہ 11 سالسے چدائی لگوا رہی ہے مگر اسکی چوت ابھی تک ٹائٹ ہے- خیر میں نے پیسے دینے کے بعد اس لڑکی کا باہر گاڑی میں انتظار کرنے لگے اور وہ 5 منٹ بعد برکھے میں آکر گاڑی میں بیٹھ گئی- ہمیں ڈر تو لگ رہا تھا مگر ٹھرک کے آگے مجبور تھے اور اسے اپنے گھر لے آئے- اور پھر کھانا کھانے کے بعد اسے میں اپنے بیڈ روم میں لے گیا اور اس سے ہم دونوں نے باتیں کیں-
پھر مویز نے کہا کہ میں پہلے جاتا ہوں اندر اس کرو گا اور پھر تم جانا تب تک تم یہاں بیٹھ کر سیگریٹ پیو اور میں لاونج میں انتظار کرنے لگا اور 30 منٹ بعد مویز آیا اور میرے ساتھ سانسیں لیتے ہوئے بیٹھ گیا اور کہا کہ یور بہت مست اور چکنی ہے میں نے تو اسے بہت چوما اور مزے سے چودا- اب باری میری تھی اور میں اندر گیا کمرے میں اور وہ پھر ننگھی بیتھی تھی بیڈ پر میں اسے چومنا چوسنا چاہتا تھا تو اسکو پہلے نہانے کا کہا اور اس سے اسکی ہو ایک چیز دھلوائی اور اپنے ہاتھوں سے اسکا بدن پونچھا- پھر کمرے میں آکر اپنے کپڑے اتارے اور اسکو اپنی باہوں میں دبا کر اسکے اوپر لیٹ گیا اور بے تحاشا چومنے لگا- پہلی بار کسی لڑکی کو اپنے سامنے ننگھا دیکھا تھا اور پھر جب اسنے میرا لنڈ دیکھا تو کہا کہ اتنا بڑا اب تک کتنوں سے کیا یے تو میں نے کہا کہ مٹھ مار کر ایسا ہوا ہے تو پہلی ہے- اور پھر اسکے ممے چوسنے لگا اور اسکی چوت کو دیکھنے لگا-
پھر اسکے پورے بدن کو چاٹا اور چوت میں انگلی ڈال کر اندر باہر کرنے لگا یار بہت گرم تھی چوت اسکی اور میں اسکے ہونٹ چومتا رہا اور ممے دباتا رہا پھر اسکے ساتھ اوپر نیچے بستر پر گھومتا رہا اور اسکے پورے بدن پر ہاتھ پھیرا- پھر اسنے میرے لنڈ پر کمرے میں پڑا تیل لگایا اور تانگ اٹھا کر لیٹ گئی اور میں نے لنڈ اسکی چوت میں ڈالنے لگا اور تھوڑا اندر گیا تو اسنے کہا کہ آرام سے کرنا تیرا بہت بڑا ہے اور مجھے عادت نہیں ہے- خیر میں بڑا ایکسایٹڈ تھا کہ آج میں چوت میں لنڈ دال رہا ہوں اور چکنا مست بدن ہے اسکا- تو آرام سے اندر ڈھکیلتا رہا اور وہ ناٹک کرنے لگی آہ ہ ہ س س س اور پھر میں نے لنڈ اندر ڈالا اور اس سے لپٹ گیا-
میں مدہوش ہونے لگا اور چوت کی گرمی سے مجھے نشہ چڑھ رہا تھا اور میں نے لنڈ کو اندر باہر کرنے شروع کردیا اور اسنے کہا کہ آرام سے کرو گے تو دیر تک ہوگا ورنہ جلدی چھوٹ جاو گے اور میں نے اسکی ٹانگیں اٹھا کر بازوں سے کھندوں تک کردیں اور لنڈ کو اندر باہر کرتا رہا اسکی چوت کافی ٹائٹ تھی اور وہ مجھ سے باتیں کر رہی تھی اور میں اسکے ممے بھی چوس رہا تھا جو کافی سخت تھے- اور 3 منٹ بعد میرے لنڈ سے مٹھ اسکی چوت میں نکلنے لگی اور میں تھنڈا ہوگیا تو اسنے کہا کہ تو اب فارغ ہوگیا ہے اور پھر میں نے اسکو کافی چوما اور چاٹا مجھے کافی مزہ آیا تھا اور پھر اسکے اوپر لیٹ گیا پھر مویز نے کہا کہ چل میں بھی اندر آرہا ہوں ایک اور شوٹ لگاتے ہیں-
تو اسنے کہا کہ تم دونوں ابھی کچے ہو اور پھر ہم 2 گھنٹے تک اسی طرح بات کرتے رہے اور میں نے دبارہ لنڈ کھڑا کیا اور مویز نے اسکو گھوڑا بنایا اور میں نے پیچھے سے اسکی چوت میں لنڈ ڈال کر تیز تہیز چودا اور پھر 6 سے 7 منٹ بعد میں بارغ ہوا اور مویز اسکو چوپا لگا رہا تھا وار اسکے منہ میں فارغ ہوا اور اسی طرح ہم پوری رات اسکے ہر جگہ سے مزے لوٹتے رہے اور صبح 6 بجے سوئے وہ صرف ایک دفعہ فارغ ہوئی اور ہم 5 گھنٹوں میں 3 بار فارغ ہوئے اور بس ہو گئی ہم سے- پھر ساتھ ناشتہ کیا اور اسکے ساتھ مل کر نہایا اور انگلی ڈال کر اس سے کھیلا اور اسے گھر والپس ڈراپ کر دیا- اس دن کے بعد میں نے ہر مہینے اسی چکلے میں جا ر اپنی پسند کی ہر لڑکی کی چدائی ماری اور مصبہ جب واپس آئی تو اسکو اپنی پرمیننٹ رنڈی بنا لیا اور مجھے اس پر ڈسکاونٹ ملنے لگا


0 comments:

Post a Comment

 

© 2011 Sexy Urdu And Hindi Font Stories - Designed by Mukund | ToS | Privacy Policy | Sitemap

About Us | Contact Us | Write For Us