Skip to main content

urdu font sexy story free

یہ گذشتہ سال نومبر کی بات ہے جب میں مجھے اپنے دفتر میں بہت زیادہ کام تھا اور کام کرتے کرتے مجھے رات کے تقریباً گیارہ بج گئے اور کام ابھی تک ختم نہیں ہوا تھا میں بہت تھک چکا تھا اور میرے کندھوں میں بھی تھکن کی وجہ سے درد شروع ہوگیا تھا میں نے فیصلہ کیا کہ ابھی میں گھر جاکر آرام کروں اور کل صبح وقتی دفتر آکر باقی کے کام کو نمٹا لوں میں یہ سوچ کر اٹھا اور دفتر کے باہر کھڑی گاڑی میں بیٹھ کر گھر کو چل دیا نہر والی سڑک پر راستے میں جیل روڈ انڈر پاس پر ٹریفک کافی پھنسی ہوئی تھی جس پر میں نے انڈر پاس کی بجائے گاڑی اوپر والی روڈ پر ڈال دی ٹریفک سگنل بند تھا میں نے گاڑی روک دی سامنے سے گزرنے والی ٹریفک کو دیکھتے ہوئے سگنل کھلنے کا انتظار کرنے لگا کچھ دیر کے بعد اشارہ کھلا اور میں نے گاڑی چلا دی سٹرک کے اس بس سٹاپ پر دو تین سواریاں بس کے انتظار میں کھڑی تھیں جبکہ ان سےتھوڑا ہٹ کرایک چادر میں لپٹی ہوئی لڑکی کھڑی ہوئی تھی جس کو دیکھ کر میری رال ٹپکنے لگی میں نے سوچا یہ کوئی پروفیشنل لڑکی کھڑی ہے چلو آج اس کے ساتھ مستی ہی کی جائے میں نے اس کے بالکل پاس جاکر گاڑی کھڑی کردی اور فرنٹ کا دروازہ کھول دیا لڑکی چند لمحے خاموش کھڑی رہی پہلے اس نے میریطرف دیکھا ہی نہیں پھر چند لمحے بعد میری طرف دیکھنے لگی میں بھی کچھ دیر دیکھتا رہا پھر میں نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بیٹھ جائیے میں آپ کو چھوڑ دوں گا لڑکی چند لمحے مجھے دیکھنے کے بعد گاڑی میں بیٹھ گئی اور دروازہ بند کرلیا میں نے اس سے پوچھا کہ کہاں جانا ہے تو کہنے لگی کہ مجھے ڈاکٹرز ہسپتال کے پاس جانا ہے میں نے خاموشی سے گاڑی چلا دی میں دل میں سوچا کہ شائد یہ میرے مطلب کی لڑکی نہیں ہے چلو اس کو اس کے گھر تک ڈراپ کردیا جائے لڑکی فیروز پور روڈ تک پہنچنے تک خاموش رہی اس کے بعد میں نے ہی خاموشی کا سلسلہ توڑا اور اس سے پوچھا کہ اس وقت کہاں سے آرہی ہیں تو کہنے لگی کہ میں اپنی ایک دوست کے گھر گئی تھی مجھے میرے شوہر نے لےنے آنا تھا مگر ان کو کوئی کام پڑ گیا سو گھر جانے کے لئے بس کا انتظار کررہی تھی”آپ کیا کرتے ہیں “اس نے اپنی بات ختم کرتے ہی مجھ سے سوال کیا” میں ایک سرکاری محکمہ میں جاب کرتا ہوں“ سرکاری محکمہ کا نام لئے بغیر ہی اس کو بتایا”میرے خاوند بھی ایک سرکاری محکمہ میں آفیسر ہیں “اس نے اپنے خاوند کے محکمہ کا نام اور ان کا عہدہ بھی بتایا” پھر تو آپ بہت بڑے لوگ ہوئے“”جی “ اس کے چہرے پر تھوڑی سی مسکراہٹ پھیل گئی”چلو ان سے کبھی کوئی کام پڑا تو آپ سے مدد لی جاسکتی ہے“میں جان بوجھ کر باتوں کو طول دے رہا تھاکہ شائد اپنی بات آج نہیں تو پھر کبھی ہی بن جائے”ضرور‘ جائز ہوا تو خود ہی ہوجائے گا اگر ناجائز ہوا تو مجھ سے رابطہ کرسکتے ہیں “ لڑکی نے مسکراتے ہوئے جواب دیامیرا نام شاکر ہے (اس کو شاکر کی جگہ اپنا اصل نام بتایا) اور آپ ؟” میرا نام ارم ہے‘ یہاں سے لیفٹ “ لڑکی نے ڈاکٹرز ہسپتال پہنچنے پر مجھے بتایا اور میں نے اس کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے گاڑی اسی طرف موڑ دی راستےمیں اس نے مجھے مزید گائڈ کیا اور کچھ دیر کے بعد ہم لوگ اس کے گھر کے باہر پہنچ گئے وہ گاڑی سے اتری تو میں نے کہا کہ اچھا میں چلتاہوں جس پر اس نے مجھے اندر آنے کی دعوت دی اور کہا کہ ابھی انور بھی آنے والے ہوں گے ان سے مل کر جائےے گا ان کو آپ سے مل کر خوشی ہوگی اور اتنی دیر میں چائے بھی تیار ہوجائے گی میں نے اس کی دعوت کو چانس سمجھتے ہوئے قبول کرلیا اور گاڑی اس کے گھر کے باہر ہی پارک کردی اوراس کے ساتھ ہی گھر کے اندر چلا گیا گھرکافی ڈیکوریٹڈ اور خوب صورت تھا ارم نے مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور خود تھوڑی دیر بعد چائے لے آئی وہ میرے سامنے والے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی اب اس کے سر پر چادر نہیں بلکہ اسکے گلے میں دوپٹہ تھا اس نے ہلکے گلابی رنگ کے پرنٹ والے کپڑے پہن رکھے تھے اس کی عمر قریب 28 سال ہوگیقد 5 فٹ 5 انچ کے قریب تھا اور غضب کی خوب صورت تھی اس نے چائے کا کپ مجھے دیا اور ساتھ ہی اس کے فون پر بیل ہوئی”ہیلو آپ سیدھا گھر آجائیے میں آگئی ہوں “فون کرنے والا شائد اس کا شوہر انور تھا جس پر نہ جانے کیا بات کی جس پر اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ لفٹ مل گئی تھی آجائےے وہ مہربان بھی آپ کا انتظار کررہے ہیں -------- نہیں بابا وہ صرف آپ کا انتظار کررہے ہیں اور آپ ایک ڈیڑھ گھنٹہ کہہ رہے ہیں ---------- او کے اوکے میں کوشش کرتی ہوں ان کو بٹھانے کی اور آپ بھی ذرہ جلدی آنے کی کوشش کیجئے گا “ یہ کہہ کر اس نے فون بند کردیا اور ہنستے ہوئے مجھے بتانے لگی کہ انور ایک ڈیڑھ گھنٹہ تک آئیں گے اور وہ کہہ رہے تھے کہ آپ کو بٹھا کر رکھوں آپ کو جلدی تو نہیں”نہیں اب میں چلتا ہوں صبح سے کام کرکرکے کافی تھک گیا ہوں“”ارے نہیںایسے کیسے جاسکتے ہیںانور کو دوبارہ کہتی ہوں جلدی آجائیں گے“میں پھر کبھی چکر لگا لوں گانہیں پھر معلوم نہیں آپ کو کب فرصت ملےاصل میں مجھے کل صبح وقتی آفس جانا ہے”شاکر پلیزز ز ز ز ز ز ز ز زز ز ز“اس کے منہ سے پلیز کا لفظ اتنے پیار اور سیکسی انداز میں نکلا کہ مجھے ہاں میں سرہلانا پڑا”بہت اچھا آپ چائے پیجیئے میں ابھی چینج کرکے آئی“یہ کہتے ہوئے وہ ڈرائنگ روم سے نکل گئی اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آئی اس نے کھلے گلے والی ململ کی قمیص پہنی ہوئی تھی جسکے نیچے برا نہیں تھا مجھے اس کے مموں کے نپلز صاف دکھائی دے رہے تھے اور میرا لن کھڑا ہوگیا میں نے دل میں سوچا شاکر ٹھیک جگہ پر پہنچے ہو وہ ڈرائنگ روم میں میرے سامنے والے کی بجائے میرے ساتھ اسی صوفے پر بیٹھ گئی جس پر میں بیٹھا تھا اس نے ٹیبل سے ٹی وی کا ریموٹ پکڑا اور ٹی وی آن کردیا”آپ کون سا چینل دیکھتے ہیں“ چینل چینج کرتے ہوئے اس نے پوچھا” کوئی بھی میوزک والا لگا دیجیئے “یہ سن کر اس نے پنجابی مجروں کا چینل لگا دیا اور میری طرف دیکھنے لگی میں نے بھی ٹی وی سے نظریں ہٹا کر اس پر جما دی وہ غضب ڈھا رہی تھی اس کی آنکھوں میں عجیب سا نشہ تھا جسے دیکھ کر مجھے بھی نشہ ہورہا تھا میرا لن جینز کی پینٹ پھاڑ کر باہر آنے کی کوشش کررہا تھا”آپ شادی شدہ ہیں“” نہیں ابھی ڈھونڈ رہا ہوں“”دیٹس گذ“اس نے اپنا نیچے والا ہونٹ سیکسی انداز میں دانتوں کے نیچے دبایا تو میں سمجھ گیا کہ یہ کیا چاہتی ہے میں نے اپنا ہاتھ صوفے کی بیک پر رکھ دیا اور ٹی وی کی بجائے اس کی طرف دیکھنے لگا باریک ہونٹوں اور نشیلے نینوں والی گوری چٹی ارم کسی انگریزی میم سے کم نہیں لگ رہی تھی”یو آر ویری ہینڈسم اینڈ بیوٹی فل بوائے “یہ کہتے ہوئے اس نے میرے بازو پر اپنا سر رکھ دیا”اندھے کو کیا چاہئے دو آنکھیں “میں نے فوری طورپر اپنے بازو سے اس کا چہرہ اپنی طرف کیا اور اس کے ہونٹوں پر کس کردیا جس پر اس نے بھی بھرپور جواب دیا”وہ آپ کے شوہر آنے والے ہوں گے “ میں نے خود کو ایک دم پیچھے کرتے ہوئے کہا” ابھی کہاں آئیں گے ایک ڈیڑھ گھنٹہ تو خود کہہ رہے ہیں صبح چھ بجے سے پہلے نہیں آئیں گے“ یہ جواب دے کر اس نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے اور بھوکوں کی طرح چوسنے لگی”بیٹا یہ تو تیری بھی استاد نکلی تو نے نہیں اس نے تجھے لفٹ دی ہے اور اس کا پورا پورا معاوضہ وصول کرے گی “میں نے دل ہی دل میں سوچا پھر دل میں ہی سوچا ”چھری خربوزے پر گرے یا خربوزہ چھری پر کام تو ایک ہی ہوگا“اس نے مجھے زبردست قسم کی کس کی اور میری شرٹ سے پکڑ کر زور سے بھینچتے ہوئے کہنے لگی”شاااااااکرررررر“میں نے ایک بار پھر اس کو گردن سے پکڑکر اس کے ہونٹ اپنے منہ کے پاس کئے اور ان کو چوسنے لگا اور اپنے ایک ہاتھ سے قمیص کے اوپر سے ہی اس کے مموں کو دبانے لگا جس سے وہ مزید وحشی ہورہی تھی تھوڑی دیر کے بعد میں نے اپنا ہاتھ اس کی قمیص کے نیچے سے ڈال لیا اور اس کے مموں کو دبانے لگا جبکہ میرے ہونٹ بدستور اس کے ہونٹوں پر ہی تھے چند لمحوں بعد اس نے مجھے خود سے علیحدہ کیا اور کھڑی ہوکر اپنی قمیص اتار دیواہ کیا بات تھی 34 سائز کے بالکل سفید رنگ کے ٹائٹ گول ممے اور ان کے اوپر گلابی رنگ کے چھوٹے چھوٹے سے نپلز میں نے ہاتھ بڑھا کر اس کے ممے پکڑنا چاہے تو اس نے میرا ہاتھ جھٹک کرپیچھے کردیا اور خود شلوار بھی اتاردی میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں اسکے بے داغ گورے چٹے بدن کو دیکھ کر میری آنکھیں چندھیارہی تھیںاس کی گول گول رانیں میرے اعصاب پر بجلیاں گرانے لگی اس کی رانوں پر ایک بال تک نہ تھا جبکہ پھدی کے اوپر بال کافی بڑے تھے کم از کم ڈیڑھ انچ لمبے تھے لیکن دھوئے ہوئے تھے تاہم بالوں کی وجہ سے پھدی کالی تھی اور صاف دکھائینہیں دے رہی تھی اس کا پیٹ نہ ہونے کےبرابر تھا میں ابھی اس کا جسم بھی اچھی طرح سے نہیں دیکھ سکا تھا کہ اسنے مجھے بازو سے پکڑ کر اٹھایا اور میں اس کے گلے لگ گیا اس نے مجھے خود سے علیحدہ کیا اور میرا اپر اتار کر شرٹ کے بٹن کھولنے لگی اس نے میری شرٹاتار اور پھر پینٹ کی بیلٹ پھر بٹن اور پھر زپ کھول دی اور پھر اس نے پینٹ سے ہاتھ ہٹا کر میری بنیان اتاری اور مجھے صوفے کے اوپر دھکا دے دیا اس کے بعد اس نے میری ٹانگیں اوپر اٹھائیں اور میری پینٹ اتاردی ایسے لگ رہاتھا آج میں اس کو نہیں بلکہ وہ مجھے چودے گی میرا لن انڈر ویئر کے اندر سے باہر آنے کو بے تاب ہورہا تھا میں نے انڈر ویئر اتارنا چاہا تو اس نے میرا ہاتھ ہٹا دیا اور خود اپنے ہاتھوں سے انڈر ویئر اتار دیا”واﺅﺅﺅﺅﺅﺅﺅ واٹ آ لینتھ“ میرا آٹھ انچ کے قریب لن دیکھ کر اس کے منہ سے بے ساختہ نکل آیامیں نے اٹھ کر اس کے ممے پکڑنا چاہے تو اس نے ایک بار پھر میرا ہاتھ جھٹک دیا اور کہا شاکر تم نہیں صرف میں‘ میں نے خاموشی سے ہاتھ صوفے کی ٹیک پر رکھ لئے اس نے مجھے ایک اور دھکا دے کر صوفے کے اوپر لٹا لیا اور خود میرے اوپر لیٹنے کے انداز میں آگئی اور میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ پیوست کردیئے ہونٹوں کے بعد اس نے میری کانوں پر کسنگ کی اور پھر میری گردن پر اپنے ہونٹ گارڈ دیئے وہ میری گردن کے اوپر کاٹنے لگی میں خاموشی سے لیٹا رہا اس نے میری گردن

Comments

Popular posts from this blog

Meri 2 sagi choti behne

Ye meri zindagi ki bilkul sachi dastanhe. Shayad kuchlogon ko yaqeen na aaye magar ye sab sach he.Mera namahsan he or mere ghar me ham 5 loghain. Mere abbu, ammi or do behne. Aik baray bahi ki shadi ho chuki hai or wo apni biwi kay sath alag ratay hain. Abbu ek bank me manager hainjab keh ammi school teacher hian. Meri umar 22 saal he jab ke dono behne mujh se choti hian. Ek areeba 18saal ki or dossri naila 19 saal ki he. Mujhe college k zamane se hi blue prints film dekhne ka shoq tha or me who wali blue prints zada dekhta tha jis me teen ager larkyan hotin thin or apne jism k her hole me sex ka maza letin thin. Mujhe choti choti larkyon k chootar, un k chotay chotay doodh gulabi nipples k saath, unki gulabi choot or chootaron k bech ki tight si darar (lakeer) buhat excitekerti thi or me esi films dekh k buhat hot hojatatha or buhat zada mani nikalta tha. Meri behan areeba jo k 18 saal ki hi 11th class me thi jab k naila jo k 19 ki thi unsay abhi inter k paper dye the or aj kal ghar …

Incest With Sons

Incest With Sons Helo friends mera nam saima khan ha. Mera figure kafi acha ha boobs 38 waist 32 ass 42 aur rang gora ha height 6 weight 73 long hair black eyes.Ye meri

true story ha.Meri family main mera husband 48 mera 2 sons parveez19 aur atif 15 hain.Mera thaluk ik high class family say ha.Mera hubby aik business man

ha aur har waqt apnay business kay kam karta ratha ha aur gahar ka bilkul khayal nahi raktha vo zaida tar business toures par he ratha ha.Jis ki waja say

meri sex ki piyas zaida barh gai ha vo jab koi 2 ya 4 months bahad sex karta ha to khud to farag ho jata ha aur mujhae garam kar kay chor deta ha.Main to

ab ungli par guzara karti thi par ik sham ko main jab main bathroom ja rahi thi to main nay parveez kay room ki window say dekha kay vo nanga tha aur

muth mar raha tha jab main nay ghor say dekha to main heran rha gai us kay lun ka size koi 9 ya 10 inch tha aur kafi mota tha aur oil ki waja say vo

chamak be raha tha kyun kay vo oil laga kar muth mar raha tha.
Main ye dekh k…

Maa beta aur bahu

Hi I am Huma . I hope you will like this hot ******uous threesome of mother, son and bahu. Matherchod gets lucky and fuckes his mom and wife. Main Amit apni kahani ko aage badhane ke liya hazir hoon. Ussraat apni maa Suman ki chudayi karne ke baad mein agle din subah deri se utha jab Suman naha dho kar rasoi meinnashta bana rahi thi. Ussne ek cotton ki patli see kamiz pehni hui thi aur kuchh nahin pehna hua tha. Maine peechhe se ja kar usko apni bahon mein le liya aur usski chuchi ko bheenchna shuru kar diya. Vo chihunk padi," Aree yeh kia? Subah uthate hi maa ko dabochliya bete? Abhi naha to lo. Kia maa itni pasand aa gayi hai. Aajto main teri biwi ko bhi ghar la rahi hoon. Fir kaise chale ga jabdo do auraton se jujhna pade ga. Kahin Soni ko shak na pad jaye ki hum dono maa bete mein jo kuchh chal raha hai. Sach Amit ab main tere lund ke bina nahin reh sakti. Main ab kasie bardashat kar sakun gi ki tu kissi aur ke ho. Sach mera dil tujhe kissi ke saath hare karne ko nahin manta …